پھر ملیں گے۔۔
اداریہ

          نومبر ۲۰۰۸ میں ۴۱ ویں سال کے آغاز کے ساتھ ہی شگوفہ کے اشاعتی امور میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں اور پچھلے پانچ مہینوں میں شگوفہ نے نت نئے ڈھنگ سے طنز و مزاح کا بہترین سرمایہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ماضی میں ضخیم خصوصی نمبر زائد شمارے کے طور پر شایع کیے جاتے تھے اور سالانہ خریداروں کو علحدہ مقررہ رقم ادا کرنے پر مذکورہ خصوصی نمبر ارسال کیے جاتے تھے ۔ لیکن آفیسٹ طباعت اور ہمہ رنگی خصوصیات سے آراستہ ضخیم عابد معز نمبر اور پرویز ید اللہ مہدی نمبر تمام سالانہ خریداروں کو نومبر و مارچ کے شماروں کے طور پر بھیجے گئے ۔ اور قارئین کرام نے اچانک حاصل ہونے والی خصوصی اشاعتوں کو ادبی سوغات کے طور پر قبول کیا ۔ بیرونی ممالک کے قارئین کرام نے ان خصوصی نمبروں کا بنظر استحسان استقبال کیا ۔ اور ان خصوصی اشاعتوں کو سارے این آر آئیز قلم کاروں کے لیے اعزاز اور اعتماد کا باعث قرار دیا ۔ جدہ اور ریاض میں ’ عابد معز نمبر ‘ کے لیے تعارفی استقبالیہ جلسے بڑے پیمانے پر منعقد ہوئے ۔ ان جلسوں کا اہتمام بھی شگوفہ اور طنز و مزاح کے فروغ کا ایک ذریعہ ہے ۔۔

ڈاکٹر معز اور پرویز پر خصوصی اشاعتیں ایک طرح سے سعودی نمبر ( ۱۹۹۲ ) اور خلیج نمبر ( ۲۰۰۴ ) کا ہی سلسلہ ہیں جن میں بیرون ملک مقیم مزاح نگاروں کے کارناموں کا احاطہ کیا گیا تھا ۔  

دسمبر ۲۰۰۸ کے شمارے میں گو کہ فیاض احمد فیضی پر ایک گوشے کا اہتمام کیا گیا تھا لیکن اس گوشے کے مشمولات کا قارئین نے بڑی توجہ سے مطالعہ کیا اور اس گوشے سے خصوصی نمبر کا سا تاثر قائم ہوا ۔ پروفیسر لطف الرحمن کے طویل اور جامع مضمون کو بڑی توجہ کے ساتھ پڑھا گیا ۔ طنز و مزاح کی تنقید کا یہ نادر نمونہ ہے جس میں لطف الرحمن نے بڑی باریک بینی کے ساتھ طنز و مزاح کے ادبی وصف کو اور فیضی کے تخلیقی تخیل کی بے کرانی اور دوسری خصوصیات کو مثالوں کے ذریعہ واضح کیا ۔

پاکستان کے نامور ادیب اور طنز و مزاح نگار ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی کے سفر نامہ کی آخری قسط اس مہینے شایع ہورہی ہے ۔ سفر نامہ کی قسطیں پچھلے دو سال سے ہر مہینہ شگوفہ میں شامل اشاعت ہوتی رہی ہیں ۔ اس پورے عرصے میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ڈاک کی خراب صورت حال کے باوجود کوئی قسط وقت پر وصول نہ ہوئی ہو یا یاد دیہانی کی ضرورت پیش آئی ہو ۔ قریشی صاحب نے ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا کہ وقت سے پہلے ایک یا دو قسطیں دفتر شگوفہ پر پہنچ جائیں ۔ صاف لفظوں میں لکھے ہوئے مسودے کو پڑھنے میں کبھی دقت پیش نہیں آئی ، جب کہ نامانوس الفاظ اور نام اکثر اس تحریر میں آئے ہیں ۔ نئے نام ہوں تو زیادہ واضح اور ضرورت ہو تو رومن میں لکھ دیا کرتے تھے ۔ کبھی مہینہ دو مہینے کے لیے کراچی سے باہر جانا ہو تو اڈوانس قسطیں بھجوادیتے تھے ۔ اس رویہ سے قریشی صاحب کے مزاج کی نفاست ، وعدے کی پابندی اور ڈسپلن کا اندازہ ہوتا ہے ۔قریشی صاحب کے اس سفر نامہ کو قارئین نے بے حد پسند کیا ۔ دو تین خصوصی شماروں میں سفر نامے کی قسط شایع نہ کرنے کے فیصلے سے بعض قارئین نے اختلاف کرتے ہوئے تسلسل قائم رکھنے کی رائے دی ۔ اس سے اندازہ ہوا کہ قارئین سفر نامہ نگار کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے ۔ کسی منزل پر رکنا انہیں پسند نہ تھا ۔۔

قریشی صاحب سے میری ملاقات ۱۹۸۸ میں ہند پاک طنز و مزاح کانفرنس کراچی میں ہوئی تھی ۔ محبی شجاع الدین غوری کے توسط سے تجدید ہوئی ۔ قریشی صاحب کی شگوفہ سے دلچسپی کے لیے سراپا سپاس ہوں ۔ یقین ہے کہ ان کی تخلیقات سے شگوفہ کی شگفتگی میں آئندہ بھی اضافہ ہوتا رہے گا ۔۔


Home

Copyright © 2010, Shugoofa.com®, All Rights Reserved.