ذکی تال گانوی
شوخی ، ظرافت اور نصیحت کا شاعر حالی

           خواجہ الطاف حسین حالی ۱۸۳۷ء میں پنجاب کے شہر پانی پت میں پیدا ہوئے جو اُس وقت پنجاب میں شامل تھا اور اب ہریانہ میں ہے ۔ انہوں نے اردو شاعری کو مقصدی شاعری بنانے ، سادگی ، سچائی اور واقعیت کے قریب لانے میں نمایاں کام انجام دیا ہے ۔ ان کا اندازِ بیان یوں تو سادہ سلیس اور سنجیدہ ہے لیکن کہیں کہیں اس میں شوخی اور ظرافت کی جھلکیاں بھی نظر آتی ہیں ۔

شوخی و ظرافت اور حالی بادی النظر میں دو متضاد راہیں معلوم ہوتی ہیں ۔ لیکن جہاں تک نصیحت کا تعلق ہے تو حالی کی پوری شخصیت ہی ایک ناصح مشفق کے پیکر میں ڈھلی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔ ان کے کلام سے شوخی و ظرافت کی جوئے شیر نکالنا مشکل ضرور ہے کیونکہ وہ انتہائی سنجیدہ ، رقیق القلب اور زاہد خشک قسم کے انسان تھے ۔ ان کے ذاتی حالات اور اس دور کے پُر آشوب واقعات نے درد مند اور انسان دوست شاعر کے لبوں سے مسکراہٹ چھین لی تھی ۔ ان کے تصور میں ملک و قوم کی عظمتِ رفتہ ، زوال پذیر اسلامی اقدار کی بے حرمتی اور غلامی کے دل شکن مناظر گھومتے رہتے تھے ۔ اسی کرب نے ان کے درد کو لافانی بنادیا تھا ۔ ایسے حالات میں اُنہیں شوخی و ظرافت کی کیونکر سوجھ سکتی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تمام نثری اور شعری تخلیقات میں بلا کی سنجیدگی ، متانت اور دلسوزی پائی جاتی ہے ۔ ان کے یہاں میر کا سوز اور فانی کی یاسیات تو باآسانی دیکھی جاسکتی ہے ۔ لیکن انشاء  کی ظرافت ، سودا کی شوخی ، غالب کی شگفتہ بیانی نایاب ہے۔ ان کی ایک نظم ' مناجات بیوہ ' کے بارے میں تو یہاں تک سُنا جاتا ہے کہ اس کو پڑھ کر بہت سی سہاگنیں ، بیوگی کی آرزو کرنے لگی تھیں ۔ ۔

اس کے باوجود یہ سوچنا کہ حالی محض ایک واعظ ایک مبلغ یا ایک ناصح تھے ۔ ان کے ساتھ ناانصافی ہوگی ۔ جس طرح صحرا میں پھول کھل جاتے ہیں بدلی سے اچانک چاند نمودار ہوجاتا ہے یا گھٹن بھرے ماحول میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آجاتا ہے اسی طرح حالی کے کلام میں شوخی و ظرافت کو دیکھا جاسکتا ہے ۔ غزل ایسی صنف سخن ہے جس کے کوچے میں بڑے سے بڑا زاہدِ خشک اور عابدِ چاک گریباں ہوکر رقص کرنے لگتا ہے حالی جوکہ ایک عام انسان تھے ان کا غزل سے متاثر ہونا بھی لازمی تھا اگرچہ شوخی و ظرافت ان کا اپنا رنگ نہیں تھا لیکن کچھ شباب کا زمانہ کچھ ' حیوانِ ظریف ' کی صحبت کے اثر سے حالیؔ نے بھی ظرافت کا اظہار کیا ہے ۔

' اے خاصۂ خاصانِ رسل وقت دعا ہے ' جیسی مناجات لکھنے والے کے کلام میں جب مندرجہ ذیل اشعار دیکھتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے ۔

ہیں عاشقی کی گھاتیں معلوم اس کو ساری
حالی سے بدگمانی بے جا نہیں ہماری
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب دیکھئے ٹھہرتی ہے جاکر نظر کہاں
ہوتی نہیں قبول دعا ترکِ عشق کی
دل چاہتا نہ ہوتو زباں میں اثر کہاں
نہ ملا کوئی غارتِ ایماں
رہ گئی شرم پارسائی کی
اُن کو حالی بھی بلاتے ہیں گھر اپنے مہماں
دیکھنا آپ کی اور آپ کے گھر کی صورت

حالی نے نہ صرف شاعری میں بلکہ اپنی بعض نثری تحریروں میں بھی شوخ اور ظریفانہ انداز اختیار کیا ہے ۔ مسدس کے دیباچہ میں رقم طراز ہیں : ۔

' البتہ مشاعروں کی بدولت چند روز جھوٹا عاشق بننا پڑا ۔ ایک خیالی معشوق کی چاہ میں دستِ جنوں کی وہ خاک اُڑائی کہ قیس و فرہاد کو گرد کردیا ۔ کبھی نالۂ نیم شبی سے راہ سکوں کو ہلاڈالا کبھی چشمِ دریا بار سے تمام عالم کو ڈبو دیا ۔ آہ و فغاں کے شور سے کروبیاں کے کان بہرے ہوگئے شکایتوں کی بوچھار سے زمانہ چیخ اٹھا ۔ طعنوں کی بھرمار سے آسمان چھلنی ہوگیا جب رشک کا تلاطم ہوا تو ساری خدائی کو رقیب سمجھا ۔ یہاں تک کہ اپنے آپ سے بدگمان ہوگئے جب شوق کا دریا امنڈا تو کشش دل سے جذب مقناطیسی اور قوت کہربائی کا کام لیا بارہا تیغ ابرو سے شہید ہوئے اور ایک ٹھوکر سے جی اُٹھے ۔ '

حالی کی مندرجہ بالا تحریر جو انہوں نے اپنی سنجیدہ شاعری کا جواز ثابت کرنے کے لیے لکھی تھی ۔ غیر ارادی طور پر ان کے دل میں موجزن حسِ مزاح کے زیر اثر شوخی بیان کی سرحدوں کو چھوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔

شوخی کا لازمی نتیجہ ظرافت بھی ہے تو بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ حالیؔ شوخی سے ظرافت کی جانب نہ آتے ۔ ان کے بعض اشعار ان کے لاشعور میں دبی حسِ مزاح کو اجاگر کرتے ہیں ۔

اپنے جوتوں سے رہیں سارے نمازی ہشیار
اک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی صورت

تو بھی کھانے میں نہیں محتاط شیخ
ہم کریں پینے میں کیوں پھر احتیاط
قافلے گزریں سلامت وہاں کیوں کر واعظ
ہو جہاں راہزن و راہنما ایک ہی شخص

حالی ایک شگفتہ مزاج انسان بھی تھے ۔ ایک مرتبہ وہ اپنے کسی مداح کے مکان پر مقیم تھے میزبان نے اُن کی خدمت پر ایک دیہاتی کو مقرر کیا اور اس سے کہا ۔ یہ مولانا حالی ہیں ۔ دیہاتی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کیا ' ہالی ' ( یعنی ہل چلانے والا ) بھی مولانا ہوسکتا ہے ۔ مولانا حالیؔ نے یہ سُن کر خوش ہوکر فرمایا ۔ ’’ اس سے بہتر میری ستائش اور نہیں ہوسکتی آج مجھے اپنے تخلص کی داد مل گئی ‘‘ اس سے ظاہر ہے کہ وہ مزاح سے لطف اندوز ہوتے تھے ۔ ۔

اگر ظرافت میں طنز کی کاٹ بھی شامل ہوتو اس کی اثر آفرینی میں اضافہ ہوجاتا ہے لہذا حالی اپنی ظرافت کے ترکش کو طنز کے تیروں سے لیس بھی رکھتے تھے کیونکہ یہ ان کی اور سرسید کی تحریک میں معاون تھے ۔ اسی لیے حالی نے اپنے ظریفانہ اشعار میں طنز کی آمیزش کرکے اپنی خوابیدہ قوم کے جذبات کو بیدار کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔۔

یہ کرجائیں ہجرت جو شاعر ہمارے
کہیں مل کے خس کم جہاں پاک سارے
طوائف کو ازبر ہیں دیوان ان کے
گویوں پہ بے حد ہیں احسان ان کے
کہ عقلوں پہ پردے دیئے ڈال انہوں نے
ہمیں کردیا فارغ البال انہوں نے

الغرض اس مفروضہ میں کوئی دم نہیں ہے کہ حالی کی شاعری میں ملک و قوم کی نوحہ خوانی سیاسی اور معاشرتی اقدار کی مایوس کن تصویر کشی اور کوری نصیحتیں ہی پائی جاتی ہیں ۔ اس کے برخلاف ان کے بعض اشعار سے صاف عیاں ہے کہ جہاں وہ ایک درد مند دل رکھتے تھے وہاں مودّب قسم کی شوخی و ظرافت کا اظہار کرنے میں بھی نہیں جھجھکتے تھے ۔ وہ آنکھوں کو نمناک کرنے کے ساتھ ساتھ ہونٹوں کی مسکراہٹ سے بھی ہم کنار کرتے تھے ۔ *


Home

Copyright © 2010, Shugoofa.com®, All Rights Reserved.