علیم خان فلکی (جدہ، سعودی عرب)
اُسے فرد ساز کہوں کہ انجمن ساز ۔کہ۔عہد ساز؟

نسیم سحر سے ہماری مانوسیت یا لگاو کا ایک راز ہے۔ چلئے آج ہم وہ راز فاش کردیتے ہیں۔ وہ ہے اسمِ ’’نسیم‘‘۔ ہمارے بچپن کا زمانہ تھا۔ عزیز میاں کی درد بھری آواز میں گائی ہوئی ایک غزل ’’نسیمِ صبح گلشن میں گُلوں سے کھیلتی ہوگی ‘‘جو قوالی کے پیرہن میں تھی محلّے کے ریسٹورنٹ مالک کو اس قدر پسند تھی کہ ہوٹل میں صبح سے شام تک وہ یہی ریکارڈ چلاتے رہتے۔ اس طرح یہ محلّے کے بچّے بچّے کو یاد ہوگئی تھی۔ اس وقت ہمیں یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ نسیم کے معنی کیا ہوتے ہیں۔ ہم اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جو گلستاں یا بوستاں یا مسدّسِ حالی پڑھ کر نہیں بلکہ میرے محبوب اور پاکیزہ دیکھ کر جوان ہوئی تھی۔ یہا ں ایسے بزرگ بھی موجود ہیں جو فلم مغلِ اعظم دیکھ دیکھ کر جوان ہوئے تھے ۔آج کل کی نسل تو خیر جوانی اور پاپ میوزک لے کر رقصاں پیدا ہورہی ہے۔ بہرحال نسیم کے معنی ہم یہی سمجھتے رہے کہ سادھنا یا مینا کماری ہی کی طرح کوئی معصوم شرمیلی اندازِ دلبرانہ لیے گلشنِ اقبال کے سارے گلوں کو گدگدانے والی کوئی حسینہ ہوگی اور ہم جب بھی یہ دُھن سنتے اپنے گلشنِ تصوّر میں ہر آنے والی حسینہ کو نسیم سے تعبیر کرکے رومانیت کے سرور میں کھوجاتے۔ہمارے والدین کی خواہش تھی کہ ہم ڈاکٹری اور انجینیرنگ پڑھیں لیکن نسیم نے ہم کو شاعری اور افسانے لکھنے کے کام پر لگا دیا۔ پھر جب پہلے پہل نسیم سحر کی غزلیں نظر سے گزریں تو یہی گمان ہوا کہ شائد نسیم نے ہم سے ملے بغیر شادی کرلی ہوگی اور سحر یقیناًاس کے شوہر کا نام ہوگا ۔شادی سے پہلے ضرور گلوں کو چھیڑتی تھی ہوگی لیکن شادی کے بعد شوق تو بدلنا ہی تھا بدل گیا ہوگا اور بجائے گلوں کے ؂

'نسیمِ شعر محفل میں غزل کو چھیڑتی ہوگی'

جب نسیم سحر سے تعارف ہوا تو ہم ان سے بھی شرمندہ ہوئے گلشنِ تصوّر کی نسیم بھی ہم سے شرمندہ ہوئی اور ہم بھی نسیم سے ۔ لیکن خوشی اس بات کی ہے کہ نامِ نسیم کے بے معنی اور لاحاصل تصوّر سے کہیں زیادہ قیمتی ایک باغ و بہار شخصیت نسیم سحر کی صورت میں ہم کو مل گئی جن کی مرصع غزلیں نسیمِ سحر بن کر ہمارے گلشنِ خیال میں آئیں اور ہمیں بھی شعر کہنے پر ابھارنے لگیں۔ لیکن آج بھی ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ نسیم سحر کا نام جب بھی سامنے آتا ہے وہ نسیم ضرور یاد آتی ہے جسے نہ کبھی دیکھا نہ کبھی اس سے بات کی۔ اس طرح ہماری یادوں کے دریچے میں ایک نہیں اب دو دو نسیم ہوں گے۔۔

نسیم سحر سے ایک ایسے مقام پر ایک ایسے عہد میں ہم ملے جہاں ہرایک کی شناخت ہندوستانیت یا پاکستانیت سے ہوتی ۔ لفظ پنجابی یا حیدرآبادی ہر ایک کی پہچان کا حوالہ تھا۔ لیکن نسیم سحر سے تعارف کے بعد یہ محسوس ہوا کہ پہچان یا شناخت کے یہ ملکی، شہری یا صوبائی حوالے نسیم سحر کے صحیح تعارف کے لیے بہت چھوٹے ہیں۔ نسیم سحر ہمارے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہمارا دین ایک ہمارے نبی ﷺ ایک ، اور وہ زبان جس میں ہمارے دینی ، تہذیبی، تاریخی اور ادبی خزانے ہیں وہ بھی ایک یعنے ’’اردو‘‘ ہے۔ لاکھ ہمارے لہجے مختلف ہوں ہماری سوچ ہماری فکر اور ہماری زبان ایک ہے۔ کسی قوم کی تہذیب و ثقافت اور فکروفن کی بلندی کو ناپنے کا اولین پیمانہ شعروادب ہوتا ہے۔ اس لیے میں نسیم سحر کو اپنا ہمزادسمجھتا ہوں ۔ ہمارا رشتہ تب تک قائم رہے گا جب تک غزل قائم رہے گی اور غزل اس وقت تک قائم رہے گی جب تک اردو زبان زندہ رہے گی اور انشاء اللہ اردو کبھی مٹ نہیں سکتی۔ ہمارے لفظ الگ لیکن تعبیر ایک ہے۔ معنی مختلف سہی لیکن تاثیر ایک ہے۔ ہمارے اندازِبیاں مختلف لیکن تکبیر ایک ہے۔۔

ہمارے ذہنوں میں نقشہ تعمیر مختلف ضرور ہیں لیکن مقصدِتعمیر ایک ہی ہے۔ ہم نے اپنے اپنے قلم کو علم بنا کر اپنا خونِ جگر دے کر راتوں کی نیندیں لٹا کر ، دل و دماغ کو عمر بھر جلا کراُسی زبان کے فکروفن کے میراث کی حفاظت کی ہے جس زبان کو دکن میں محمد قلی قطب شاہ اور ولی دکنی نے پروان چڑھایا۔ لکھنو اور دہلی سے میر و غالب نے جسے جوان کیا۔ حالی ، آزاد اور علامہ اقبال نے پنجاب سے اسے معراج تک پہنچایا۔ ایسی زبان اور ایسی تہذیب کے علمبردار شاعر یا ادیب کو کسی صوبے یا کسی علاقے کے حوالے سے پہچاننا تنگ ذہنی اور کوتاہ نظری کی علامت ہے۔ لیکن میں ایسے تنگ ذہنوں پر ملامت نہیں کروں گا کیوں کہ جن کو شعر وادب کا ذوق نہ ہو، تہذیب و ثقافت کا علم نہ ہو۔ تاریخ پر جن کی نظر نہ ہو۔ جنہیں اپنی قوم اور اپنی زبان کی عظمت اور اس کی حفاظت کا ذرّہ برابر احساس نہ ہو ایسے بے حس افراد اگر ایک دوسرے کو پنجابی حیدرآبادی یا مہاجر یا شمالی ہندی میں تقسیم کرتے ہیں تو اس میں حیرت کیا ہے؟ لیکن بدقسمتی سے ایسے ہی افراد کی آج امّت میں اکثریت ہے۔ نسیم سحر کے نام کی معنویت خود اس بات کی دلیل ہے کہ نسیم سحر آفاقیت کی علامت ہیں۔ جدہ کی ادبی محفلوں میں جن کے منتظمین چاہے ہندوستانی رہے ہوں کہ پاکستانی ، نسیم سحر کی بھر پورخلوص اور انکساری کے ساتھ شرکت نے اردو زبان اور شعروادب کی آفاقیت کو اعتبار بخشا۔ نسیم سحر نے اس روش کو پوری ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھایا جس کی بنیاد ڈالنے والوں میں مصلح الدین سعدی، وحیدالدین فریدی، اعتماد صدیقی، طارق غازی، روف خلش، رسول احمد کلیمی، سجّاد بابر، ظفر مہدی، ناظر قدوائی وغیرہ شامل تھے اور مجھے یقین ہے کہ جب تک نعیم بازیدپوری، مجاہد سیداور مہتاب قدر جیسے شعرا موجود ہیں یہ روش باقی رہے گی ۔

میرا جی تو چاہتا ہے کہ نسیم سحرکی شخصیت پر بہت کچھ کہوں لیکن مجھے خاکہ لکھنے کے لیے کہاگیا ہے مضمون نہیں ۔اس لیے میں اپنی اور نسیم سحر کی اوقات پر آتے ہوئے اتنا عرض کروں گا کہ لوگ کہتے ہیں کہ نسیم سحر بہت بڑے شاعر ہیں۔ میں نسیم سحر کو ہرگز بڑا شاعر نہ مانتا اگر انہوں نے خود بڑے شاعر ہونے کا دعوٰی کیا ہوتا۔ لوگ دوسروں کی غزلوں کو اپنے نام کا سہارا دے کر زندہ رکھتے ہیں لیکن یہ اپنی غزلوں کو کئی شاگردوں کے نام کا سہار ا دے کر زندہ رکھتے ہیں۔ غزل سنانے کا انداز قتیل اور فیض جیسا یعنے اپنی غزل بھی اس طرح سنائیں گے جیسے کسی شاگرد کی بے وزن غزل سنارہے ہوں۔ ان کی غزلیں ہری ہرن جیسے گائکوں نے سنا کر لاکھوں کمائے اب تو جی چاہتا ہے ان سے فرمائش کریں ذرا ہری ہرن کے ترنّم میں غزل سنادیں ۔ زندگی کے تیس سال اسلامک ڈیولپمنٹ بنک کو نذر کردیئے۔ وہاں شعروادب کا بھی کھاتہ کھول دیا۔اس دوران بینک نے دن دونی رات چوگنی بلکہ چودہ گنی ترقی کی ۔یعنے دنیائے ادب میں کُل 14 مجموعوں کا اضافہ ہوا جن میں 9غزلوں کے ، ایک نظموں کا، ایک حمدیہ و نعتیہ اور دو ہائیکو اور ایک مزاحیہ پر مشتمل ہیں۔ ان کے علاوہ سہ ماہی ’’سحاب‘‘ کا بھی اجرا عمل میں آیا جس کے اب تک 12شمارے منظرِعام پر آچکے ہیں۔ اس کے معیار کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ اس میں ناچیز کی بھی تحریریں شامل ہیں۔جب صدارت کررہے ہوتے ہیں تو لگتا ہے Statement of accountsکو Approveکررہے ہیں اور جب سامعین میں ہوتے ہیں تو تمام شعرا کی غزلوں کے اوزان کی Auditکررہے ہوتے ہیں۔ بڑے بڑے شعرا کی Balance sheetان کے پاس موجود ہے۔ایک مرتبہ احمد فراز کی بھی بیلنس شیٹ تیار کردی۔ ان کا اِنہوں نے انٹرویو لیا اور ایک جملہ معترضہ بغیر کسی تبصرے کے جوں کا توں شائع کردیا۔ میں اُس وقت ان کی ذہانت کا قائل ہوگیا۔کیوں کہ یہ جانتے تھے کہ قاری خود ہی بہترین تبصرے سے نواز دیں گے۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب کلنٹن مونیکا اسکینڈل اخبارات پر چھایا ہواتھا۔احمد فراز نے کہا تھا کہ ’’مونیکا کلنٹن واقعے کے ادب پر بھی گہرے اثرات پڑیں گے۔‘‘ اردو ادب اپنے چٹان جیسے اخلاقی اصولوں پر کھڑا ہے نہ کہ ہوسناکیوں یا ہیجان انگیزیوں کے غبار پر۔ناچیز نے جب اس لغو جملے پر اردو نیوز میں تبصرہ کیا تو اطہر ہاشمی نے باقی تبصرے کرنے والوں کو بھی راستہ دیا۔ اس کا سارا کریڈٹ نسیم سحر کو ہی جاتا ہے۔اتنے سالوں میں یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ یہ کتنی انجمنوں اور ہنگاموں سے وابستہ رہے۔ لیکن یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ’’سلسلہ ٹوٹا نہیں درد کی زنجیر کا‘‘۔ ہند و پاک کی انجمنوں کی عمر یوں بھی زیادہ نہیں ہوتی۔دو تین سال میں وہ عام طور پر اللہ کو پیاری ہوجاتی ہیں۔لیکن نسیم سحر جیسی مضطرب شخصیتیں جہاں جتنی بھی مہلت ملے غنیمت جان کر ملک، قوم ، زبان اور کمیونٹی کے لیے کچھ نہ کچھ کرتے رہنے پر ڈٹے رہتی ہیں۔شائد اسی لیے یہ جس محفل میں بھی جاتے ہیں کوئی ان کو بیٹھنے کے لیے ان کے شایانِ شان جگہ پیش نہیں کرتا سوائے صدارت یا مہمانِ خصوصی کی مسند کے۔اور یہ سجتے بھی اِسی جگہ ہیں۔کئی مرتبہ یہ بھی ہوا کہ یہ اتفاقاً کسی محفل میں پہنچ گئے اور انہیں دیکھتے ہی پہلے سے طئے شدہ صدر یا مہمانِ خصوصی نے ان کے حق میں دستبردار ہوجانے میں اپنی عزت سمجھی ۔اب یہ جگہ خالی کرکے جارہے ہیں جو کچھ لوگوں کے لیے بہرحال خوشخبری ہی ہے لیکن یہ یاد رہے کہ یہ محض نشستاً و برخاستاً کی رسمی جگہ نہیں۔اس کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے نسیم سحر جیسا عزم، مستقل مزاج، مطالعہ، سب کو ساتھ لے کر چلنے کی خو کے ساتھ ساتھ اپنے وقت اور جیب کو مسلسل لٹاتے رہنے کی ہمت بھی چاہیئے اس کے بعد ہی یہ جگہ کسی کے شایانِ شان بنتی ہے ۔

نسیم سحر کو اس عہد کی ایک فرد ساز شخصیت کہوں تو غلط نہ ہوگا۔جو شاعر یا ادیب نہیں ہوتا وہ ان کی صحبت میں بن جاتاہے اور جو نہیں بن پاتا وہ ادب میں سیاست کرنے لگتاہے۔ یہ ہر ایک سے اس قدر پر تپاک ملتے ہیں جیسے شعرا یونین کے الکشن لڑنے والے ہوں۔جس سے ووٹ ملنے کی توقع نہ ہو اُس سے اپنے تعلقات خراب نہیں کرتے اس کو اپنے شاگردوں کے حوالے کرڈالتے ہیں۔ جس سے ناراض ہوتے ہیں اُسے بہت دیر میں پتہ چلتاہے کہ یہ اس سے ناراض ہیں۔ اس قدر بردباری کہ اگر کوئی ان کا راستہ روک کر کہے کہ میں بے وقوفوں کو راستہ نہیں دیتا تو یہ فوری ایک طرف ہٹ جائیں گے اور مسکراتے ہوئے کہیں گے ’’لیکن میں دیتا ہوں ‘‘ ۔ ہماری طرح تیس سال پہلے دو چار لاکھ کماکرواپس ہوجانے کے ارادے سے سعودی عرب آئے تھے ارادے کے پکے نکلے فوری واپس جارہے ہیں دعا کیجیے کہ ہمارے بھی دو چار لاکھ جلد جمع ہوجائیں ۔ لیکن میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ تیس سال ہم نے منبر و محراب سے خطیبوں کو اُس قوم پر لعنت و ملامت کرتے سنا ہے جس میں اتنی انسانیت تو ہے کہ ایک غلام ، کالے افریقی ویٹر کا بیٹا ملک کا صدر بھی بن سکتاہے۔نسیم سحر جیسی بے شمار شخصیتیں ہیں جن کے دل و دماغ اِس سوچ میں مسلسل جلتے رہتے ہیں کہ اس قوم کے دینی، ادبی، فکری اور سماجی و سیاسی چراغوں کو کس طرح روشن رکھیں۔ میں سوچتا ہوں اگر ہم وہیں چلے جاتے تو صدارت نہ سہی کچھ اور تو کر ہی جاتے۔ لیکن چھوڑئیے ہم نے ایسی سوچوں پر تقدیر کے تالے لگا کرمزید سوچنے کے دروازوں کو یوں بھی بند کررکھا ہے۔ دل کی تسلی کو یہی کیا کم ہے کہ یہاں رہ کر حرمین کی قربت کی سعادت تو نصیب ہوئی ۔ ۔

بعض چہرے جوانی میں ایسے لگتے ہیں جیسے اللہ میاں نے انہیں خاص اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے لیکن یہی جب بوڑھے ہوتے ہیں تو لگتا ہے ان کے اپنے کرتوتوں نے بنایا ہے۔ لیکن نسیم سحر کا رعب دار چہرہ 64سال کی عمر میں بھی رعب اور دبدبے کی جوانی لیے انہی کی مرصع غزلوں کی طرح ہے سدا جوان رہے گا۔ اتنے سال نوکری اور خاندان کی تمام ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے اپنے ذہن و قویٰ کو نثر، شاعری، مزاح، خاکوں، انٹرویوز اور اس کے ساتھ ساتھ بے شمار تنظیموں سے وابستہ رکھنا یہ نسیم سحر کا ہی کمال ہے اس لیے میں حیران ہوں کہ انہیں فرد کہوں کہ فرد ساز، انجمن کہوں کہ انجمن ساز، ایک عہد کہوں کہ عہد ساز۔ایک پبلشنگ ہاوز کے قیام اور اس کے ذریعے صحتمند ادب کی ترویج کا اب جو مشن لے کر پاکستان جارہے ہیں یہ ایک چیلینج ہے جو پوری جوانی چاہتا ہے اور نسیم سحر اس کیلئے تیار ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ انہیں زبان و ادب کی خدمت کے لیے ہمیشہ جوان رکھے۔ یہ بار بارآتے رہیں اور ہماری محفلیں جوان رہیں۔۔

Home

Copyright © 2010, Shugoofa.com®, All Rights Reserved.