پرویز ید اللہ مہدی
خطبۂ شکرانہ

اللہ رب العزت کی بارگاہ مقدس میں شکرانے کے لاکھ لاکھ نذرانے پیش کرنے کے بعد شکرانے کی فہرست میں جو نام سرفہرست ہے وہ ہے طنز مزاح گر مصطفی کمال کا نام جن کے کمالات کی آدھی اردو دنیا معترف ہے ۔ رہی باقی آدھی تو وہ اگر معترف نہیں تو منحرف بھی نہیں ۔ بے شمار کمالات ہائے مصطفی کمال میں سے ایک کمال مصطفی کمال ایسا ہے جسے مغل اعظم کمال کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا اور یہ کمال اعظم ہے ان کے زیر ادارت شایع ہونے والا اردو دنیا کا واحد طنزیہ و مزاحیہ رسالہ شگوفہ جسے مدیر شگوفہ پچھلے اکتالیس سال سے برابر کھلائے چلے جارہے ہیں اور تھکے نہیں ۔ اس سلسلے میں ان کے بعض حریفوں کا خیال ہے کہ ان کے قبضے میں ضرور کوئی جن ہے جس کی مدد و تعاون سے وہ یہ کارنامہ انجام دئیے جارہے ہیں ۔ جب کہ ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ انہیں کسی جن کی نہ ضرورت ہے نہ حاجت کیوں کہ یہ بذات خود کسی جن سے کم نہیں ! چنانچہ مذکورہ روایتی بلکہ محاوراتی جن کے سارے کام خود ہی سر انجام دئیے چلے جارہے ہیں اور وہ آرام سے لیٹا چین کی بنسی بجائے چلا جارہا ہے ۔ ماہنامہ شگوفہ کا تازہ سالنامہ ابھی راقم کے زیر مطالعہ ہی تھا کہ مدیر شگوفہ ایک دن اچانک غریب خانے تشریف لے آئے اور بغیر کسی تمہید کے سوال کیا ' پرویز آپ امریکہ واپس کب تک جارہے ہیں ' ۔

ہم نے جواباً عرض کیا : مارچ کے وسط تک ۔

بولے : گویا ابھی اور دیڑھ دو ماہ آپ حیدرآباد میں ہیں ۔

انشاء اللہ آپ کے واپس امریکہ لوٹنے تک شگوفہ کا پرویز ید اللہ مہدی نمبر نہ صرف چھپ جائے گا بلکہ اس کی رسم اجرا بھی ہوجائے گی ۔

راقم نے حیرت سے پوچھا : یہ اچانک آپ کو میرے نمبر کی کیا سوجھی ؟ کیا آپ کو یہ اندیشہ ہے کہ اب کی بار میں امریکہ گیا تو پھر واپس حیدرآباد نہیں آؤں گا ؟

وہ تردیدی لہجے میں بولے : نہیں بات یہ نہیں ہے ، آپ کے نمبر میں ویسے ہی بہت تاخیر ہوچکی ہے ۔ اس نمبر کو بہت پہلے ہی نکل جانا چاہئے تھا ' ۔ اب مزید تاخیر نہیں ہونا چاہئے ۔ اس کے لیے آپ تعاون کریں یا نہ کریں ۔ میں مصمم ارادہ کرچکا ہوں ۔ اگلا یا اس کے بعد والا شگوفہ کا شمارہ پرویز ید اللہ مہدی نمبر ہوگا ۔ اور آپ کے شایان شان ہوگا ' ۔ موصوف کے فیصلہ کن لہجے نے مجھے گڑبڑا دیا ہکلاتے ہوئے پوچھا : اتنی کم مدت میں ، آپ میرے بارے میں میری تحریروں کے بارے میں سینئیر و ہم عصر ادیبوں شاعروں خاکہ نگاروں ، نقادوں کی آرا تاثرات اور مضامین اکٹھا کرسکیں گے ؟۔

مسکراتے ہوئے بولے : آپ کو خود اپنی ایک خوبی کا اندازہ نہیں دوسروں کی آرا تاثرات اور مضامین کی ضرورت دوسروں کو پڑتی ہے ۔ آپ کے زیادہ تر پڑھنے والے آپ پر دوسروں کے لکھے کے مقابلے میں خود آپ کا لکھا زیادہ شوق سے پڑھتے ہیں۔ یہ جو آپ نے پچھلے چالیس برسوں میں نثری ادب کی تقریباً ہر صنف میں قلم کے گھوڑے دوڑا کر تخلیقات کے انبار لگائے ہیں ان میں سے چند نمائندہ نمونے منتخب کرلوں گا اور ان کے ساتھ جو چند معروف و کم معروف قلمکاروں کے تاثراتی آرا و مضامین میرے پاس پہلے ہی سے جمع ہیں وہ بھی شامل کرلوں گا ۔ چلیے نمبر تیار ضابطے کی تکمیل بھی ہوگئی نمبر کے تقاضے بھی پورے ہوگئے۔ چنانچہ محبی و مشفقی مصطفی کمال نے جو کچھ فرمایا اسے کر دکھایا ۔ البتہ نمبر کے لیے تصویروں کے انتخاب کے سلسلے میں تھوڑی سی دقت ضرور پیش آئی ۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ زمانہ شیر خواری سے لے کر گناہوں کے بوجھ سے بھاری دور حاضر تک یعنی حالیہ حلیے تک کی تصاویر شامل کی جائیں ۔ کمال صاحب شیر خواری والے زمانے پر اصرار اس لیے بھی کررہے تھے کہ میرا ہی ایک پیروڈی نما شعر مجھ پر صادق آجائے ۔ بات اس زمانے کی ہے جب برادرم مضطر مجاز پابندی کے ساتھ احباب کے ہمراہ دفتر شگوفہ میں بیٹھا کرتے تھے اور اپنی ہر تازہ غزل پہلی مرتبہ اسی محفل میں سنایا کرتے ۔ ان کی ایک مشہور غزل ہے جس کے قوافی ، نکالی ، مثالی ، سفالی آستین کی پالی وغیرہ ہیں جیسے ہی موصوف نے اپنی یہ غزل سنائی میں نے انہیں قوافی میں ایک نئے قافیہ کے ساتھ فی البدیہہ یہ شعر موزوں کر کے پیش کردیا :

کب تک پھرے گا تو یونہی فطری لباس میں
کچھ باندھ شیر خوار کی پھالی ہی کیوں نہ ہو

تلاشی بسیار کے باوجود دور شیرخواری کی کوئی تصویر دستیاب نہ ہوسکی ۔ لہذا جو تصویریں ملیں انہی پر اکتفا کرنا پڑا ۔ شگوفہ کے اس خصوصی شمارے میں کوئی کمی یا خامی نظر آئے تو اس کے لیے راقم کی شخصیت اس کی تحریریں اور ان کے نقائص ذمہ دار ہیں اور اگر کسی وجہ سے نمبر ہذا پسند آجائے تو مدیر شگوفہ اور ان کے ساتھ تعاون کرنے والے مہمان مدیران کو جی کھول کر داد دیجئے کہ تعداد میں یہ دو ہیں ۔ اس پر بھی ایک لطیفہ ہوا میرے پھوپھی زاد بھائی علامہ توفیق کے پوتے سید جلال الدین کو جیسے ہی اس نمبر کی خبر ہوئی دوڑے دوڑے آئے مجھے مبارکباد دی اور بولے : یہ تمہارے مصطفی کمال بڑے کمال کے آدمی ہیں مستقل مدیر کے ساتھ مہمان مدیر کے عہدے کی اختراع کا سہرا انہی کے سربندھتا ہے ۔ تمہارے نمبر کے واسطے مہمان مدیر کس کو منتخب کیے ہیں ؟۔

عرض کیا : میرے نمبر کے لیے ایک نہیں دو ، دو مہمان مدیر چنے گئے ہیں ۔

جلال بولے : مناسب بہت مناسب اقدام ہے ۔ تمہاری بھاری بھرکم شخصیت کے حساب سے کم سے کم دو مہمان مدیر تو ہونے ہی چاہئیں ۔ اس وقت وہاں میرے ایک ماموں زاد بھائی بھی تشریف فرما تھے ہنستے ہوئے بولے ’ دو مہمان مدیر مل کے بھی ان کا کیا بگاڑ لیں گے ، انوں پہلے ہی بگڑے ہوئے ہیں ‘ ۔۔

خیر یہ تو برائے تفننِ طبع ایک بات تھی ورنہ سچ تو یہ ہے کہ نمبر ہذا کے دونوں مہمان مدیران اس عہدے کے پوری طرح اہل ہیں اور ان پر یہ مصرعہ کسی طرح صادق نہیں آتا ۔

میں اہل تو ہوں کسی اور کا میری اہلیہ کوئی اور ہے

دونوں اپنی اپنی اہلیاؤں کے پوری طرح اہل ہیں بالخصوص عزیزی محمد علی رفعت سلمہ کہ جو مہمان مدیر ہونے کے علاوہ آج کی محفل کے صدر بھی ہیں حالانکہ ہم اردو والوں میں عموماً کسی ازکار رفتہ بشخص کو صدر بنانے کی روایت خاصی عام ہے ۔ اس پر جناب صدر کو جلسہ سے دو ایک روز قبل صاحب اعزاز کے بارے میں آدھی ادھوری معلومات فراہم کی جاتی ہیں ۔ نتیجتاً بے چارہ صدر اعزا زکے بارے میں اتفاقاً سچ بھی بولے تو ایسا لگتا ہے جیسے جھوٹ بول رہا ہے یہاں اس محفل میں یہ معاملہ تو نہیں ہے تاہم رفعت چوں کہ راجیو ودیا مشن کے ڈائرکٹر ہیں اور راقم جیسے کم علم شخص کے لیے تعلیم کے فروغ میں دامے درمے حصہ لینے والے ادارے کے دروازے بڑی فراخدلی سے کھول دئیے ہیں اس لیے ہوسکتا ہے بعض اصحاب کے ذہنوں میں یہ خدشہ پیدا ہو کہ کہیں ان کی اس مہربانی کے جواب میں انہیں صدارت تو نہیں سونپی گئی جب کہ بخدا ایسا ہرگز نہیں ہے ۔ ان کا شمار ان صدر حضرات میں ہوتا ہے جو نہ صرف اپنی بلکہ صاحب اعزاز کی بھی رگ رگ سے واقف ہوتے ہیں ۔ عزیزی رفعت اپنی طالب علمی کے زمانے ہی سے راقم کی تحریروں کے شیدائی رہے ہیں ۔ نتیجہ جب بھی اور جہاں بھی ملتے ہیں چاہے نجی محفل ہو یا کوئی ادبی اجتماع ، میرے کسی نہ کسی مزاحیہ مضمون کا کوئی نہ کوئی فقرہ کوئی نہ کوئی جملہ ضرور دہراتے اور خود ہی ہنسی سے دہرے ہوجاتے ہیں۔ اپنے لکھے ہوئے اتنے فقرے تو خود مجھے یاد نہیں ہیں چنانچہ کبھی کبھی مجھے یہ گمان ہوتا ہے کہ جو فقرہ ابھی ابھی رفعت نے میرے نام سے منسوب کر کے سنایا ہے وہ کہیں کسی اور کا تو نہیں یعنی بقول شاعر :
میں خیال ہوں کسی اور کا
مجھے سوچتا کوئی اور ہے

والا معاملہ تو نہیں ۔ چنانچہ گھر لوٹ کر اپنے اس گمان کی تصدیق کے لیے اپنی کتاب اپنے مضمون سے رجوع کرتا ہوں تو میں رفعت کی یادداشت پر رشک کرنے لگتا ہوں ۔۔

راقم کے نمبر کے دو مہمان مدیر ہیں ڈاکٹر سید ممتاز مہدی یداللہی جو ہم مشرب ہی نہیں ہم مشروب بھی ہیں یعنی راقم کی طرح چائے بڑے شوق سے پیتے ہیں ۔ اکثر غریب خانے تشریف لاتے اور اپنے دیدار سے مشرف فرماتے ہیں ۔ ملنے ملانے میں ایک طرف بے حد بے تکلف تو دوسری طرف اس قدر عقیدت و احترام کا مظاہرہ کرتے ہیں جیسے ادبی جرگے میں اگر کوئی بزرگ واقعی رہ گیا ہے تو وہ خاکسار ہی ہے ۔ کہاوت ہے کہ گھنے برگد کے تلے سوائے گھاس پھوس کے کچھ نہیں اگتا ۔ اور ان کے والد بزرگوار اردو کے منفرد ڈرامہ نگار ، اردو ادب کو افسانے کے وزن پر عکسانے کی ترکیب عطا کرنے والے حضرت منجو قمر ، ادبی میدان کے برگد تھے انہی کی ڈرامہ نگاری کے فن پر پی ایچ ڈی کر کے لائق سپوت نے خود کو بھی ایک تناور درخت ثابت کیا ۔۔

باپ کے فن کا اک اک گوشہ
بیٹے نے نہیں تشنہ چھوڑا
اسی لیے تو صادق آئی
ان پر یہ مشہور کہاوت
باپ پہ پوت پتا پر گھوڑا
بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا

جو بزرگ اور قابل احترام شخصیت شہ نشین پر تشریف فرما ہے جس کی شرکت سے اس ادبی محفل کے وقار میں یقیناًاضافہ ہوا ہے ۔ وہ بلا شبہ کسی رسمی تعارف کی محتاج نہیں کہ عزت مآب ڈاکٹر حسن الدین احمد قبلہ حیدرآباد فرخندہ بنیاد کے ادبی حلقوں میں عزت کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں ۔ ان کی موجودگی معمولی محفل کو بھی غیر معمولی بنا دیتی ہے ۔ جن تعریفی و تحسینی کلمات سے قبلہ نے اس حقیر فقیر کو نوازا ان کا ناچیز اہل تو نہیں پھر بھی اسے آپ کی بخشش جان کر قبول کرتا ہے ۔۔

پروفیسر یوسف کمال محض نام ہی کی وجہ سے یوسف نہیں ہیں بلکہ اپنی چال ڈھال ہئیر اسٹائیل دھیمے لہجے اور آواز کے زیر و بم کے اعتبار سے شہنشاہ جذبات دلیپ کمار جو اصلیت میں یوسف خان ہیں ان سے کافی حد تک مشابہت رکھتے ہیں ۔ پروفیسر یوسف کمال آدمی شعبۂ جیالوجی کے ہیں ، مگر جی ان کا سائنس اور ادب میں زیادہ لگتا ہے ۔ یہ اور ان کے جوڑی دار حضرت مضطر مجاز دونوں ہی شروع سے راقم پر مہربان رہے ہیں ۔ اب سے بیس برس پہلے تک دفتر شگوفہ کی مخصوص بیٹھکوں کے مستقل ممبر بھی رہے ہیں ۔ فلم آرٹ ، ریڈیو ، ٹی وی ، پریس ، میڈیا پروفیسر صاحب کے پسندیدہ موضوعات رہے ہیں ۔ ان موضوعات پر جب یہ بولنے پر آتے ہیں تو بولتے چلے جاتے ہیں ۔ بولنے کے ساتھ ساتھ سگریٹ نوشی کا شغل بھی جاری رہتا ہے حالانکہ یہ سگریٹ نوشی کے عادی نہیں تھے لیکن جب بحث مباحثے میں شرکت فرماتے تو کسی بلا نوشی کی حد تک مبتلا سگریٹ نوش کے بھی ناک کان کاٹنے لگ جاتے ۔ جوش کے عالم میں سگریٹ کو دیا سلائی سے سلگانے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے ۔ بجھتے ہوئے سگریٹ سے نیا سگریٹ جلاتے ، پتہ نہیں اب بھی ان میں یہ عادت برقرار ہے کہ نہیں ۔ اب سے آٹھ برس پہلے میری پچھلی کتاب ’ ترکی بہ ترکی ‘ کی رسم اجرا کے موقع پر یہ مجھ سے ناراض ہوگئے تھے محض اس لیے کہ مقررین کی زیادتی کی وجہ سے انہیں مجھ پر میرے فن پر بولنے کی دعوت نہیں دی گئی تھی ۔ پروگرام کے اختتام پر انہوں نے مجھ سے باقاعدہ جھگڑا کیا تھا ان کی یہ ادا بھی مجھے بے حد آئی تھی کہ آج ہم شاعر و ادیب اپنے جھگڑنے کے حق سے بھی گریز کرنے لگے ہیں ۔ مجھے اپنی اس غلطی کا شدید احساس بھی تھا چنانچہ نمبر ہذا کی رسم اجرا کے سلسلہ میں جب مدیر شگوفہ نے مقررین کے نام طے کرتے ہوئے مجھ سے پوچھا کہ آیا میں کسی خاص شخصیت کو اس موقع پر زحمت دینا چاہتا ہوں ۔ جواب میں میری زبان سے بے ساختہ یوسف کمال صاحب کا نام نکلا ۔ میں احسان مند ہوں برادرم یوسف کمال صاحب کا کہ نہ صرف یہ تشریف لائے بلکہ اپنے بیش قیمت لفظوں کے پھولوں سے میرا تہی دامن بھر دیا ۔ شکریہ کمال صاحب بے حد شکریہ ۔

ڈاکٹر وہاب قیصر کو میں اس وقت سے جانتا ہوں جب یہ نہ تو ڈاکٹر تھے نہ پروفیسر ، نہ کارگزار وائس چانسلر آف مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی نہ کنٹرولر آف ایکزامنیشن بلکہ اس وقت یہ ایک ہونہار طالب علم اور رومانوی افسانے لکھنے والے نو آموز افسانہ نگار تھے ۔ پھر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے عزیزی وہاب نے ترقی کے بے شمار زینے طے کیے ۔ میوزیکل چیز کے کھیل میں جس طرح کرسیاں بدلی جاتی ہیں انہوں نے مختلف کرسیاں بدلیں ۔ ان کے ایسا ترقی کی کرسیاں بدلنے کے حوالے سے میں پہلے بھی یہ عرض کرچکا ہوں کہ اس اثنا میں وہاب نے کرسیاں ضرور بدلی ہیں لیکن کرسیوں نے وہاب کو نہیں بدلا ۔ البتہ پچھلے کچھ عرصے سے ان میں قابل نوٹس تبدیلی یہ آئی ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد اور مرزا اسد اللہ خاں غالب کے روحانی فیضان و تعاون سے عرش سے اُدھر بلندی پر ایک قصر بنالیا ہے اور ان شخصیات کے روحوں کے ہمراہ ہفت و اقلیم کی سیر کررہے ہیں ۔ چنانچہ میں ان سے اکثر یہ درخواست کرتا ہوں کہ عزیزم کبھی کبھار بلندی سے نیچے اتر کر ہم دھرتی کے باسیوں کی بھی خبر لے لیا کیجئے ۔ آج اس محفل میں ان کی یہ شرکت میری درخواست کو شرف قبولیت بخشنے کا نتیجہ ہے ۔ شکریہ عزیزی وہاب بے حد شکریہ ۔۔

ڈاکٹر حبیب نثار ریسرچ اسوسی ایٹ شعبہ اردو حیدرآباد یونیورسٹی ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جس کا کلاسیکی موسیقی کے حوالے سے حیدرآباد میں بڑا نام ہے ۔ ان کے والد گرامی مشہور طبلہ نواز حضرت شیخ داؤد قبلہ اپنے فن کے استادوں میں شمار کیے جاتے تھے ۔ یہی کلاسیکل اقدار انہیں علم و ادب کے حوالے سے ورثے میں ملی ہیں جس کا صاف اندازہ ان کے تحقیقی و تنقیدی مضامین کے دوسرے مجموعے کے مطالعہ سے بخوبی ہوتا ہے ۔ آج کے مادہ پرست دور میں یونیورسٹیوں سے وابستہ پروفیسر صاحبان اور ریسرچ اسکالرز کم معروف ادیبوں شاعروں کی تخلیقات کا تنقیدی جائزہ اس وقت تک نہیں لیتے جب تک کہ اس سے ان کی کوئی ذاتی منفعت وابستہ نہ ہو ۔ ایسے ماحول میں ڈاکٹر حبیب نثار جیسے چند جیالے ہیں جو بے غرض ہو کر راقم اور راقم جیسے قلم کاروں کی قلمی کاوشوں پر اپنا وقت اور قلم کی روشنائی صرف کرتے ہیں ۔ ڈاکٹر موصوف دوبار راقم پر یہ قلمی احسان فرما چکے ہیں جس کے لیے میں ان کا بے حد شکر گزار ہوں ۔۔

آج دکنی کی حیثیت محض ایک بولی کی سی رہ گئی ہے ورنہ ایک دور وہ بھی تھا جب اسے زبان کا درجہ حاصل تھا ۔ جہاں تک دکنی کو بحیثیت زبان کے مزاحیہ شاعری میں برتنے کا تعلق ہے اگر صرف پچھلی نصف صدی سے ذرا پہلے تک نظر ڈالی جائے تو بے شمار نام لیں گے جیسے نذیر دہقانی ، اعجاز حسین کھٹا ، سرور ڈنڈا ، علی صائب میاں ، سلیمان خطیب ، گلی نلگنڈوی وغیرہ ۔ برادرم اشرف خوندمیری اس سلسلے کی ایک معتبر کڑی ہیں ۔ دکنی زبان اور اس کے محاورے ان کی شاعری کا خاصہ ہیں ۔ راقم کو ان کی زیادہ تر نظموں کا اولین سامع ہونے کا شرف حاصل رہا ہے ۔ خاکسار کے اولین مجموعے چھیڑ چھاڑ کی رسم اجرا کے موقع پر بھائی اشرف نے جو منظوم خاکہ مجھ پر لکھا اسے بھی ان کے اولین منظوم خاکہ ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ جس کے ذریعے ہمیں بھی انہیں یاد کرنے کا آج شرف حاصل ہوا ۔ اس منظوم خاکے کو موثر انداز میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی برادر خورد جناب یس اے قادر سابق ڈی آئی جی پولیس نے جس کے لیے میں ان کا شکر گزار ہوں ۔۔

اب سے لگ بھگ تیس پینتیس برس پہلے تین عدد مزاح نگاروں کا ایک مثلث ہوا کرتا تھا جس کا ایک ضلع راقم ، دوسرا مسیح انجم ، اور تیسرا رشید عبدالسمیع جلیل ہوا کرتے تھے ۔ آپس میں ہماری بے تکلفی بھی تھی خلوص بھی تھا ۔ جھگڑے بھی تھے ، چھیڑ چھاڑ بھی تھی شرارتیں بھی تھیں ۔ کبھی نرم پائے پر کھینچا تانی ہوتی تو کبھی زبان پر بحثیں ۔ اس زمانے میں سمیع جلیل کی سگریٹ نوشی کا یہ عالم تھا کہ پینے کی جگہ تو سگریٹ پیتے ہی تھے کھانے کی جگہ بھی سگریٹ ہی نوش فرمایا کرتے تھے ۔ کم و بیش یہی رفتار ان کی اب بھی ہے ۔ کثرتِ سگریٹ نوشی کے نتیجے میں موصوف چلنے کی جگہ دکھنی زبان میں ڈھکلیاں زیادہ کھاتے تھے اور ان کے اس رفتار سے ڈھکلیاں کھانے پر ، مسیح صاحب سمیع صاحب کو جلیل ڈھکل کہا کرتے تھے ۔ مسیح صاحب کے انتقال کے ساتھ ہی یہ مثلث ٹوٹ گیا ۔ خود سمیع صاحب بھی شعر و ادب کے منظر سے لمبی مدت کے لیے غائب ہوگئے ۔ البتہ منظر سے فیڈ آوٹ ہونے سے پہلے یہ دو شعری مجموعے ایک سنجیدہ بعنوان نصاب دل ، دوسرا مزاحیہ نمی دانم ، اردو ادب کو دے گئے ۔ اور اب حالیہ عرصے میں برسوں بعد دوبارہ ادب کے مطلع پر نمودار ہوئے ہیں ایک عدد تازہ سنجیدہ شعری مجموعے کے مسودے ’ جانم ‘ کے ساتھ جو اب شایع ہوچکا ہے ۔ جس کے مطالعہ کے بعد ہی قارئین کو یہ پتہ چلے گا کہ جانم ان کی بانہوں میں ہے یا یہ جانم کی بانہوں میں ۔ بہرحال آج ان کے منظوم کلام نے پچھلی بے شمار یادوں کو پھر سے تازہ کردیا ۔ جس کے لیے راقم ان کا شکریہ ادا کرتا ہے ۔۔

اس محفل میں واحد فرد ایسا ہے جو نہ صرف خود بیدار ہے بلکہ دوسروں کو بھی بیدار رکھتا ہے کہ بیدار ہی اس کے نام کا لاحقہ ہے۔ پروفیسر مجید بیدار سے میری شناسائی کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب یہ اورنگ آباد کے کالج میں لکچرر ہوا کرتے تھے ۔ ان دنوں انہوں نے اورنگ آباد ہی کو آباد کر رکھا تھا ۔ پھر یہ حیدرآباد منتقل ہوئے لکچرر سے ریڈر پھر پروفیسر ہوئے ، بولنے میں چونکہ ماہر ہیں جب یہ بولتے ہیں تو پھر کوئی اور کچھ نہیں بولتا ۔ تب ہی تو اکثر ادبی اجتماعات کی نظامت کا قرعہ فال انہی کے نام نکلتا ہے اپنی نظامت کی مہارت سے یہ اونگھتی ہوئی محفلوں کو بیدار اور بیدار جلسوں کو گل و گلزار ، زعفران زار کردیتے ہیں میں ان کی اس مہارت کو سلام کرتا ہوں ۔۔

کسی بھی ادیب یا شاعر کے بڑھتے قدم اور قلم دونوں اپنی منزل اور مقصد کے حصول میں اسی وقت کامیاب ہوتے ہیں جب کہ انہیں اپنے گھر والوں اور چاہنے والوں کا تعاون حاصل ہو ۔ کم سے کم میرا ذاتی تجربہ تو یہی ہے ۔ راقم کے چالیس سالہ طویل و کامیاب ادبی سفر کا سہرا گھر والوں اور آپ چاہنے والوں کے سر بندھتا ہے جن کی ہمت افزائی ، حوصلہ افزائی ، تعریف و تحسین حیدرآباد سے ممبئی اور پھر ممبئی سے امریکہ تک ہمیشہ میرے شامل حال رہی ۔ خدا وند تعالیٰ آپ تمام کے ذوق و شوق کو سدا سلامت رکھے قائم رکھے ۔ بالخصوص یہاں میں اپنی نور نظر لخت جگر ، سارہ تزئین مہدی کا اس محفل میں استقبال کرتا ہوں جو خاص طور سے اس تقریب رسم اجرا میں شرکت کی غرض سے شکاگو سے حیدرآباد آئی ہے ۔ خدا اسے صحت و تندرستی دے ایمان کی دولت سے سرفراز فرمائے ۔ اور اس کا سایہ اس کے دونوں ہونہار بٹیوں کے سروں پر تا دیر قائم رکھے جن کی پرورش یہ ماں کے ساتھ ساتھ باپ بن کر بھی کررہی ہے ۔۔

پس نوٹ : ۸ مارچ ۲۰۰۹ کو شگوفہ کے پرویز ید اللہ مہدی نمبر کی رسم اجرا کے موقع پر پڑھا گیا ۔۔


Home

Copyright © 2010, Shugoofa.com®, All Rights Reserved.