منظور عثمانی
اے شوہرِ لاہوتی ۔۔۔         

نوکری انسان کی کیل ہے ۔ اس کا پہلا شکار مرد کی آزادی ہوتی ہے ۔ غالب جیسے آزاد منش بہادر شاہ کے دربار میں بڑے چاؤ سے بہ طور ملازم شامل ہوئے لیکن جلد ہی احساس ہوگیا کہ وہ دن ہوا ہوئے جب پسینہ گلاب ہوا کرتا تھا ۔ کس حسرت سے کہتے ہیں ؂

وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں

مالک سے کتنا بھی قرب حاصل کرلے ، کتنا ہی ناک کا بال کیوں نہ بن جائے کہلائے گا چمچہ ہی ۔ غالبؔ ہی کی زبانی اپنی بے توقیری کا افسانہ بھی سن لیں ۔ ؂

ہوا ہے شہہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے

( اگر روئے سخن ذوقؔ کی طرف نہ بھی ہوتو بھی مصاحب کی بے آبروئی تو مسلم ہے ہی )
اکبر الہ آبادی گاندھی جی کے بڑے مداح تھے لیکن چونکہ مدخولۂ سرکار تھے اس لیے چاہتے ہوئے بھی ان کی گوپیوں میں شامل نہ ہوسکے اور دور ہی سے تالیاں بجاتے رہے ۔ ۔

نوکری کی مجبوریوں اور پابندیوں کے سلسلے میں ایک اور واقعہ سن لیں ۔ جوش ملیح آبادی جب رسالہ آجکل کے مدیر اعلیٰ ہوگئے تو کسی دوست کے احوال پوچھنے پر کمال تأسف کے ساتھ فرمایا ’’میاں کیا پوچھتے ہو بس یوں سمجھ لیں گویا ریس کا گھوڑا تانگے میں جوت دیا گیا ہو‘ ۔

مذکورہ تینوں مثالیں ان لوگوں کی ہیں جو بڑے عہدوں پر فائز تھے۔ جب یہ حضرات خود کو بطور ملازم اتنا مجبور ، بے بس اور حقیر محسوس کرتے تھے تو ذرا تصور کیجئے ان لاچاروں کا جو خانگی نوکروں کے درجہ میں آتے ہیں بقول کسے

ناامیدی ان کی دیکھا چاہئے

ایک مالکن نے کسی بات پر اپنے نوکر کو ڈانٹ پلائی ۔ نوکر نے چیں بہ جبیں ہوکر کہا ’’بی بی جی ! ہم سے تمیز سے بات کیا کریں۔ ہم نوکر ہیں آپ کے شوہر کی طرح بندھوا تھوڑا ہی ہیں ۔ آئندہ خیال رہے ۔ ‘‘ نوکر کی اس تنبیہ سے محترمہ واقعی سیدھی ہوگئیں ۔ آئندہ بجائے روز روز اس کے لَتے لینے کے دالداری کرنے لگیں ۔ لہجے میں روز بہ روز مٹھاس آتی گئی اور تو اور شامو سے شام لعل جی ہوگئے ۔ ادھر شامو کے حصہ کی ڈانٹ ڈپٹ بھی بیچارے خاوند کے حصہ میں آتی گئی ۔ بندھوا جو تھا بیچارہ ، جاتا بھی تو کہاں جاتا ۔ اسے تو ’’ کھونٹائے مناکحت ‘‘ سے بندھے بندھے مار کھانا ہی تھی ۔ کیسی مجبوریاں ہیں شوہر کی !

ہم نے اس لطیفے کا ذکر اپنے دوست ’’ پستہ خان ‘‘ ( جو اپنی دانائی کی وجہ سے زیرک خان ، بھی کہلائے جاتے ہیں ) سے کہا ۔ انہوں نے نوکر کی بات پر صاد کرتے ہوئے فرمایا ’’ جناب ! اسے لطیفہ نہ کہئے یہ سولہ آنوں حقیقت ہے ۔ وہ زمانے لد گئے جب شوہرِ نامدار تاجدار اور مجازی خدا ہوا کرتا تھا ۔ جس کی خوشنودی وسیلۂ جنت تصور کی جاتی ۔ اور بیوی خود کو خاوند کے پیروں کی دھول تصور کرتی تھی لیکن اب تو دنیا ہی بدل چکی ہے ۔ اس موڈرن ایج میں شوہروں پر وقت حقیری ، آن پڑا ہے ۔ نوکر تک اپنے کو اس سے برتر سمجھتے ہی نہیں منوانے بھی لگے ہیں ۔

اس کے بعد خان صاحب نے ہم سے دریافت کیا ’’ میاں ! کبھی آپ نے اس پر بھی غور فرمایا ہے کہ نوکروں کی بالادستی کا راز کیا ہے ۔ پھر خود ہی جواب دیتے ہوئے فرمانے لگے ’’ دراصل اس کی بنیادی وجہ فیشن زدہ خواتین کی کاہلی ، تن آسانی اور امور خانہ داری سے لاعلمی ہے ۔ آج کے دور میں جتنی توجہ اپنی نکھ سکھ اور سنگھار پر دیتی ہے اس کا عشر عشیر بھی گھرگرہستی پر نہیں دیتی ۔ سارا زور بیوٹی کوئن بننے پر ہے ۔ کچن کوئین کہلانا عار محسوس کرتی ہیں ۔ بھلا چولھے ہانڈی میں پڑکر اپنا رنگ روپ کیوں گنوائیں ۔ نتیجے کے طور پر ان کی ناواقفیت کی سزا شوہر غریب کو سہنی پڑتی ہے۔ جسمانی طور سے بھی معاشی طور سے بھی ۔ ایک موڈرن وائف کا نوکر بھاگ گیا ۔ اس نے اپنی سہیلی سے کوئی دوسرا ملازم فراہم کرنے کی درخواست کی ۔ ’’ محترمہ کی روشن خیال ‘‘ دوست نے پوچھا ’’ کیا شوہر نہیں ہے جو نوکر کی تلاش میں ہو ؟ ‘‘ ۔

ایک اور نئی نویلی بیگم کی سگھڑتا کا احوال بھی سن لیں : ۔ انہوں نے سسرال جانے کے بعد کچن میں قدم رکھنے سے پہلے اپنی والدہ سے فون پر آملیٹ بنانے کی ترکیب پوچھنا ضروری سمجھا جبکہ عام خیال یہ ہے کہ آملیٹ کو بگاڑنے کے لیے غیر معمولی مہارت کی ضرورت ہے ۔ ایسی ہی کسی الٹرا موڈرن بیبیوں کے بارے میں کسی پاکستانی شاعر المتخلص بہ ’’ مسٹر ‘‘ کا قول ہے ۔ ع

اپنی روٹی خود پکا مسٹر کہ اب اس دور میں
حسن آجاتا ہے حسنِ انتظام آتا نہیں

کل کی مائیں اس مقولے پر کہ ’’ شوہر کے دل کا راستہ اس کے پیٹ سے ہوکر جاتا ہے ‘‘ ۔ شادی سے پہلے اپنی بیٹیوں کو ٹریننگ کے طور پر کھانے پکانے ، سینے پرونے اور دیگر امور خانہ داری میں ماہر کرکے بھیجتی تھیں پر آج الٹا یہ سکھایا جاتا ہے کہ مرد کے دل کا راستہ براہ شکم نہیں بلکہ براہ تن جاتا ہے ۔ وہ بھی مہکتا ہوا ، نیم عریاں ’’ دعوتِ کام ‘‘ دیتا ہوا ۔ رہا ’’ دعوت دہن ‘‘ کا معاملہ تو یہ کام ہے باورچیوں ، ہوٹلوں یا فاسٹ فوڈ کا ۔ آج کی ’’ وائف ‘‘ کو کچن کے نام سے ہی بخار چڑھنے لگتا ہے کیونکہ وہ اس کی کرم بھومی کی راہ میں پڑتا ہی نہیں ۔ آج کی خواتین نفس کی غلام ہوکر رہ گئی ہیں ۔ چنانچہ نوکروں نے بھی ان کی اس کمزوری کو بھانپتے ہوئے ان کا استحصال شروع کردیا ہے ۔ اور عملاً نوکر سے مالک بن بیٹھے ۔

لگے ہاتھوں زیرک خاں نے نوکر و شوہر پر اچھا خاصا پر مغز لیکچر ہی دے ڈالا ۔ ’’ موازنۂ نوکر و شوہر ‘‘ ۔

کہنے لگے کہ مرد کی بے توقیری کا سلسلہ تب ہی سے شروع ہوجاتا ہے جب وہwife
کی شکل میں دائمی تفکرات worries Invited for Ever کو دعوت دیتا ہے ۔ بیچارہ اسے قبولتے ہی بیوی کو نصف بہتر ( Better half ) اور خود ’’ نصف بدتر ( Bitter half ) قرار پاتا ہے ۔ کبھی شریک حیات خدمت و ایثار کے طویل کٹھن راستوں سے دلوں تک پہنچ پاتی ہوگی اب تو راج کرتی ہے عشوہ و غمزۂ و اداؤں کے شورٹ کٹ سے ۔ بس ایک نگاہِ غلط انداز سے حکمرانی کے سارے مراحل طے پا جاتے ہیں ۔ مسافت کم سے کم ، پر لذت بھرپور ۔ ہلدی لگے نہ پھٹکری رنگ چوکھا ہی چوکھا ۔ شربت انار کی جگہ شربتِ دیدار کہیں زیادہ زود اثر اور لذیذ تر ۔ ان ہتھیاروں کے آگے کوئی بدذوق ہی ہوگا جو ایک ہی چلّو میں الّو نہ بن جائے ۔

شوہر اور نوکر میڈم کی خانگی زندگی کے دوپہئے ہیں ۔ غور کیجئے تو نوکر کو نصف بہتر کہا جاسکتا ہے ۔ نوکر کو شوہر پر کئی معاملات میں برتری حاصل ہے مثلاً نوکر کی غلامی عارضی ہوتی ہے وہ جب چاہے ، مالک بدل سکتا ہے جبکہ شوہر ہی دائمی ہے ۔ ایک نوکر سے بوقت انٹرویو کہا گیا ’’ تمہارا رکارڈ تو بہت خراب ہے تمہارے بائیوڈاٹا کے مطابق تم نے سال بھر میں دس مالک بدلے ‘‘ جواب میں امیدوار نے بڑے اعتماد کے ساتھ کہا ’’ جناب آج کل اچھے مالک ملتے ہی کہاں ہیں ‘‘ لاچار شوہر اس قسم کی خواہش خواب میں بھی نہیں کرسکتا ۔ اسے تو تاحیات ایک ہی کھونٹے سے بندھے رہنا ہے ۔ ۔

نوکر تنخواہ دار ہوتا ہے ۔ شوہر قطعی بے دام بلکہ الٹا اپنی تنخواہ کا آناپائی لاکر زوجہ کے قدموں میں ڈال دیتا ہے اور روزانہ دفتر جاتے ہوئے بس کا کرایہ بھی بیوی سے مانگ کر لے جاتا ہے ۔

نوکر کی غلطیوں پر چشم پوشی اور شوہر غریب سے بات میں باز پرس ۔ وہ کماکر لے جائے ۔ بھائی ہڈی رگڑ رگڑ کماکر لائے ۔ نوکر رکھنا Status Symbol
جبکہ شوہر کبھی کبھی باعثِ شرم ۔ نوکر پر اعتماد اور احساس برتری کا حامل ۔ یہ بیچارے دبے دبے بھینچے بھینچے ۔ وہ کہیں بھی نظریں لڑانے کے لیے آزاد ، یہ بیچارہ لڑانا تو کجا نظریں اٹھاکر کسی کو دیکھ بھی نہ پائے ۔ وہ اپنا دکھ شکایتیں گھر گھر کہتا پھرے یہ لاچار آہ بھی بھرتا ہے تو ہوجائے بدنام ۔ اس کا چہرہ تروتازہ ان کا بجھابجھا سہما سہما پژ مردہ سا کیوں نہ ہو ۔ ع

سوزِ غم ہائے نہانی اور ہے

اس کی مونچھ اونچی ان کی نیچی ۔ وہ چھوڑ کر چلے جانے کی دھونس دیتا ہے یہ میکہ چلے جانے کی دھونس سہتا ہے ۔ وہ ایک دو دن کا ناغہ کرے تو لوٹ کر آنے پر میڈیم نہایت ملائمیت سے فرماتی ہیں ’’ شام لعل جی کہاں رہ گئے تھے ۔ طبیعت تو ٹھیک تھی ۔ آپ کا بڑا انتظار کیا میں نے ۔ کل تو آئیں گے نا ؟ ‘‘ شوہر کو دیر ہوجائے تو دیوار پھاند کر آئے ۔ ملازم کی لیاقت اور خدمت کا اٹھتے بیٹھتے اعتراف بلکہ ڈھنڈورا ، ہر آئے گئے سے ، پاس پڑوس میں ۔ شوہر کی خدمت کا اعتراف ہو بھی تو رات گئے سرگوشیوں میں بھلا ۔ ع

جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا

دو ٹکے کا نوکر تو مالکن کو نخرے دکھاتا اور منواتا ہے ۔ جبکہ ہزاروں کماکر لانے والا مالک گھر والی کے ناز نخرے سہتا ہے ۔
آخیر میں خاں صاحب نے موضوع کو سمیٹتے ہوئے کہا ’’میاں اب تو شوہر کی بے کسی کا یقین آگیا ہوگا یا کچھ اور ثبوت پیش کیے جائیں ۔ ہم نے ہاری ہوئی جنگ کے محاذ سے آخری دلیل پیش کرتے ہوئے عرض کیا ’’ خان صاحب ! مگر وہ بادۂ شبانہ کی سرمستیاں نوکروں کو کہاں نصیب ؟ ‘‘ اس پر خاں صاحب نے جزبز ہوتے ہوئے فرمایا ’’ یار یہ بھی دیکھو کہ شوہر کو چند کلیاں نشاط کی چننے کے لیے کس قدر محوِ یاس رہنا پڑتا ہے ۔ بھلا یہ بھی کوئی صلہ ہوا کشتۂ ستم کے لیے ۔

مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کردے
کہ جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کردے


Home

Copyright © 2010, Shugoofa.com®, All Rights Reserved.