رؤف انور
شادی خانے سے دواخانے تک

           حیدرآباد کبھی تاریخی عمارتوں ، اخلاق ، تہذیب اور مہمان نوازی کے لیے ساری دنیا میں مشہور تھا ۔ مگر اب حادثوں ، شادی خانوں اور دواخانوں کے لیے شہرت حاصل کرنے لگا ہے ۔ سٹی آف پرلس ، موتیوں کے شہر کو اب ’ سٹی آف بریانی ‘ یعنی بریانی کے شہر سے جانا جانے لگا ہے ۔ یہاں تاریخی عمارتیں اب بھی ہیں مگر ان کا جغرافیہ بدل گیا ہے ۔ مہمان نوازی اب گھروں سے نکل کر شادی خانوں میں پہنچ گئی ہے ۔ چھوٹے چھوٹے موقعوں پر یہاں بڑی بڑی تقریبیں ہونے لگی ہیں ۔ پہلے شادیاں بھی اپنے گھروں میں ہوجاتی تھیں مگر جب سے باہر کا پیسہ آیا ہے اندر کی ساری خواہشیں تیزی سے باہر آنے لگی ہیں ۔ وہ دن دور نہیں جب تجہیز و تکفین بھی فنکشن ہال میں ہونے لگے گی ۔ حیدرآباد ویسے بھی ایک زمانے سے کھاتے پیتے لوگوں کا شہر رہا ہے ۔ سونے اور کھانے کے معاملے میں ہم حیدرآبادی سب سے آگے ہیں ۔ پیٹ بھر کر کھاتے ہیں اور دل بھر کے سوتے ہیں ۔ ساری دنیا میں کھیل کود کے مقابلے ہوتے ہیں ۔ یہاں کھانے کے مقابلے منعقد کئے جاتے ہیں ، جیسے بریانی کھانے کا مقابلہ ، حلیم کھانے کا مقابلہ وغیرہ وغیرہ ۔ جو کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ بریانی کھاتا ہے اسے بریانی چمپئن کے خطاب سے نوازا جاتا ہے ۔ اگر ساری دنیا میں کھانے کے مقابلے ہوں تو یقیناًکسی حیدرآبادی کو بین الاقوامی چمپئن کا خطاب مل سکتا ہے ۔۔

          تعجب نہیں کہ گنیس بک آف ورلڈ ریکارڈس میں بھی کسی حیدرآبادی کا نام شامل ہوجائے ۔ جہاں تک آرام پسندی کا سوال ہے اس میں ہم بے چارے حیدرآبادیوں کا کوئی قصور نہیں ہے ۔ یہاں کی آب و ہوا ہی میں آرام پسندی کے جراثیم ہیں ۔ کسی بھی تیز رفتار ملک یا شہر سے آنے والا جیسے ہی اس شہر کی زمین پر قدم رکھتا ہے وہ سست رفتار ہوجاتا ہے ۔ یہاں کے لوگ آرام سے بات کرتے ہیں ، آرام سے چلتے ہیں اور آرام کی زندگی گذارتے ہیں ۔ بہر حال مجموعی طور پر یہ شہر ’ کھاتے پیتے ‘ لوگوں کا شہر ہے ۔ اسی لیے یہاں شادی خانوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ۔ یہاں کوئی بھی آدمی مہینے میں کم سے کم دو چار دعوتیں جب تک کھا نہیں لیتا اس کا پیٹ نہیں بھرتا ۔ دعوتوں اور شادی خانوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی رفتار کو دیکھ کر یہاں اب دواخانوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہونے لگا ہے کیوں کہ ہر عقل مند ڈاکٹر یہ جانتا ہے کہ جو راستہ شادی خانے سے باہر نکلتا ہے ایک نہ ایک دن اس راستے کی منزل دواخانہ ضرور ہوتی ہے اور اب وہ کہاوت بھی بہت پرانی ہوچکی ہے کہ دل تک جانے والا راستہ پیٹ سے ہو کر جاتا ہے ۔ ایک زمانے میں ہماری نصف بہتر ( جنہیں نصف بدتر کہنے کی ہم خواب میں بھی ہمت نہیں کرسکتے) ہمارے دل تک پہنچنے کے لیے پیٹ ہی کا راستہ استعمال کرتی تھیں ۔ مگر اب زمانہ بدل گیا ہے ۔ وہ اب ہر پہلی تاریخ کو ہماری جیب تک پہنچنے کے لیے ہوٹل سے فیملی پیاک منگانے لگی ہیں ۔ اور آج بھی جب ہم آفس جانے کے لیے گھر سے نکل رہے تھے ، محترمہ نے اعلان کردیا کہ آج ہمارا کھانا بنانے کا بالکل موڈ نہیں ہے ۔ دفتر سے لوٹتے ہوئے آپ مٹن بریانی کا فیملی پیاک لیتے آئیے ۔ بھولنا مت آج کل آپ کی یادداشت بہت کمزور ہوتی جارہی ہے ہم نے غصے سے جواب دیا کہ اب اتنی کمزور بھی نہیں ہے ۔ اگر ہوتی تو میں بہت پہلے ہی تمہیں ہی نہیں اس گھر کے راستے کو بھی بھول گیا ہوتا ۔ انہوں نے جواب دیا ’ گھر نہیں آؤ گے تو پھر کہاں جاؤ گے ‘ ؟ آپ جیسے بدھو ہر شام لوٹ کر اپنے گھر ہی تو آتے ہیں ‘ ۔ اسکوٹر اسٹارٹ کرتے ہوئے ہم نے دل ہی دل میں سوچا ۔ میں صرف بدھو ہی نہیں عقل کا اندھا بھی ہوں جس نے آنکھیں بند کر کے ایسی عورت سے شادی کرلی جس کا تعلق پکانے والی فیملی سے نہیں بلکہ صرف کھانے والی فیملی سے ہے ۔ ہم گھر سے جیسے ہی سڑک پر آئے ہمارے غصہ میں اضافہ ہوگیا ۔ ہمارے اس دوست نے جو کھانے ہی کو زندگی سمجھتے تھے ، کسی کالی بلی کی طرح ہمارے سامنے آکر اپنا اسکوٹر روک دیا اور کہا میں بڑی جلدی میں ہوں ۔ میرے لیے دعا کرنا میں بریانی کھانے کے مقابلے میں حصہ لینے جارہا ہوں اور تم دیکھ لینا یہ انعام میں ہی جیتوں گا ۔ میں نے ان سے کہا آپ کے سوائے کوئی اور جیت بھی نہیں سکتا ۔ آپ کھانے کے مقابلے میں ساری دنیا کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں ۔ یہ سن کر وہ فاتحانہ انداز میں مسکرائے اور تیزی سے اپنی اسکوٹر پر روانہ ہوگئے۔ کھانے کے دشمن اپنے دوست کو میں پچھلے بیس بائیس برسوں سے جانتا ہوں ۔ وہ دعوتوں کے سلسلے میں سارے محلے اور سارے دفتر میں مشہور ہیں ۔ کبھی کوئی کام وقت پر نہیں کرتے ۔ دفتر ہمیشہ دیر سے جاتے ہیں ۔ مگر ہر دعوت میں وقت سے پہلے پہنچ جاتے ہیں ۔ باتوں کے بھی ماہر ہیں ۔ ان کے ایک ہاتھ میں ہمیشہ موبائیل فون اور دوسرے ہاتھ میں ٹیلی فون ہوتا ہے اور وہ اپنے سامنے کھڑے کسی ماتحت کو احکامات دیتے رہتے ہیں ۔ ایک عرصے تک وہ سیکل پر دفتر آیا کرتے تھے ۔ مگر جب سست رفتار سیکل کی وجہ سے انہیں دعوتوں میں تاخیر ہونے لگی تو انہوں نے ایک تیز رفتار اسکوٹر خرید لی ۔ اس کے انہیں کئی فائدے ہوئے ایک تو وہ ہر دعوت میں وقت پر پہنچنے لگے ۔ دوسرے اپنی فیملی کو بھی جو ایک بیوی چار بچوں پر مشتمل ہے ، اپنی اسکوٹر پر دعوتوں میں لے جانے لگے ۔ دعوتوں کا انہیں بے چینی سے انتظار رہتا ۔ شادی کے ہر رقعے کو وہ للچائی ہوئی نظروں سے دیکھا کرتے تھے جب بھی کسی دوست یا رشتہ دار سے ملتے دعاؤں اور دعوتوں میں یاد رکھئیے کہنا ہرگز نہیں بھولتے ۔ مگر جب لوگ انہیں صرف دعاؤں میں یاد رکھنے لگے تو انہوں نے دعاؤں کہنا چھوڑ دیا اور صرف دعوتوں میں یاد رکھئیے کہنے لگے ۔۔

         جس دن سے انہوں نے اسکوٹر خریدا ہم نے پھر کبھی انہیں پیدل چلتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ کبھی مل جاتے تو اخلاقاً بھی اسکوٹر سے اترنے کا نام نہیں لیتے ۔ اسی پر بیٹھے بیٹھے منٹوں ہی نہیں گھنٹوں باتیں کرتے ۔ گفتگو کا موضوع دعوتیں ہی ہوتا ۔ انہیں اس بات کا افسوس تھا کہ وہ ایک ہی دن میں کئی دعوتوں کی وجہ سے ہر دعوت میں شریک ہونے سے قاصر ہیں ۔ وہ اسکوٹر پر بیٹھے بیٹھے اظہار افسوس کرتے رہے ۔ وہ اور ان کا اسکوٹر آر ایس ایس اور فرقہ پرستی کی طرح لازم و ملزم تھے ۔ کچھ دن پہلے ایک دعوت میں ان سے ملاقات ہوگئی ۔ اتفاق سے ڈائننگ ہال اور مہمانوں کے بیٹھنے کی جگہ میں کافی فاصلہ تھا ( یا میزبان نے جان بوجھ کر یہ فاصلہ رکھا تھا ) ہمارے دوست حسب روایت اس دعوت میں بھی اپنے چار عدد بچوں کے ساتھ وہاں وقت پر پہنچ گئے تھے اور بڑی بے چینی سے اس سگنل کا انتظار کررہے تھے جو عام طور پر میزبان کی طرف سے دیا جاتا ہے کہ آئیے میزیں سجادی گئی ہیں ۔ ہمارے دوست نے اپنے لڑکے کو بھیج کر معلوم کروایا کہ آخر دیر کس بات کی ہے ۔ لڑکا خبر لایا کھانا تیار ہے مگر دولھے کا انتظار ہے ۔ یہ سن کر سارے مہمان دولھے کو برا بھلا کہنے لگے ۔اس میں ہمارے دوست پیش پیش تھے ۔ آخر انتظار کے صبر آزما بلکہ جان لیوا لمحات ختم ہوئے ۔ سگنل دیا گیا اور مہمان تیزی سے ڈائننگ ہال کی طرف لپکے ۔ فاصلہ کچھ زیادہ ہی تھا ۔ اس لیے کچھ لوگ دوڑنے لگے ۔ دوسروں نے بھی ان کی تقلید کی اور پھر دوڑ کا باقاعدہ مقابلہ شروع ہوگیا ۔ ہم نے دیکھا کہ ہمارے دوست اپنے چاروں بچوں کو لیے ہوئے سب سے آگے دوڑے جارہے ہیں اور پھر ہال میں پہنچ کر کرسیوں پر بیٹھنے کے لیے دوسرا مقابلہ شروع ہوگیا اور یہ منظر دیکھ کر ہمیں ’ میوزیکل چیر ‘ کی یاد آگئی ۔ اس مقابلے میں بھی ہمارے دوست نے بازی جیت لی اور اپنے بچوں کے ساتھ پورے ایک ٹیبل پر قبضہ کرلیا ۔ دعوت کے بعد جب ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا اگر مجھے معلوم ہوتا کہ اتنا دوڑنا پڑے گا تو میں یہاں بھی اپنا اسکوٹر لے آتا ۔ اس کے بعد ایک عرصہ تک ہمارا کسی دعوت میں جانے کا اتفاق نہیں ہوا ۔ اس لیے ان سے ملاقات نہیں ہوسکی ۔ مگر ایک دن صبح وہ نظر آگئے اور ہماری حیرت کی کوئی انتہا نہیں رہی ۔ ہمارے وہ دوست جو کبھی پیدل چلتے ہوئے نظر نہیں آئے ۔ وہ سڑک پر تیز رفتاری سے چل رہے تھے بلکہ تقریباً بھاگ رہے تھے اور ان کی سانسیں پھول رہی تھیں ۔ ہم یہ جاننے کے لیے ان کے پیچھے دوڑے کہ آخر ماجرا کیا ہے ۔ ہم ان کے قریب پہنچے اور پوچھا ۔ کیا بات ہے آپ اسکوٹر کے بغیر پیدل دوڑے جارہے ہیں ۔ انہوں نے اپنی سانسوں پر قابو پاتے ہوئے کہا اس کمبخت کا نام مت لو اس کی وجہ سے مجھے ہر روز اتنا دوڑنا پڑرہا ہے ۔
 
        ہم نے تعجب سے پوچھا : آخر کیا بات ہے ۔ سنا ہے آپ دعوتوں میں بھی شرکت نہیں کررہے ہیں ۔ انہوں نے غصے سے کہا گولی مارئیے دعوتوں کو میری اس حالت کی دوسری وجہ وہ دعوتیں بھی ہیں ۔
 
          ہم یہ سن کر حیران رہ گئے ۔ ایک جگہ جب وہ تھک ہار کر بیٹھ گئے تو ہم نے ان سے پھر دریافت کیا اور انہوں نے پسینہ پونچھتے ہوئے ہمارے سوال کا جواب دیا اور ان کا جواب سن کر ہمیں افسوس ہوا ۔ بے چارے ذیابطیس کا شکار ہوگئے تھے اور ڈاکٹر نے انہیں روزانہ چہل قدمی کا مشورہ دیا تھا ۔ انہوں نے غصہ سے کہا بیوی ساتھ چھوڑ سکتی ہے مگر یہ کمبخت بیماری بڑی وفادار ہے ۔ اب آخری دم تک ساتھ نہیں چھوڑے گی ۔ کچھ دنوں بعد معلوم ہوا کہ وہ ایک ہاسپٹل میں زیر علاج ہیں ۔ شوگر بہت بڑھ گئی تھی ۔ ہم جب ان سے ملنے گئے تو معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنا اسکوٹر بیچ دیا ہے اور دعوتوں سے بھی توبہ کرلی ہے اور میٹھی چیزوں کو اپنی زندگی کا دشمن سمجھنے لگے ہیں ۔۔


         ہم نے افسوس کا اظہار کیا تو وہ مسکرا کر بولے اتنے افسوس کی ضرورت نہیں شکر کافی مہنگی ہوگئی ہے اور آج کل آسانی سے مل بھی نہیں رہی ہے ۔ اس لیے میں اپنے اندر شکر کی ذخیرہ اندوزی نہیں کرنا چاہتا اور جب میں جانے لگا تو انہوں نے ہمیشہ کی طرح وہی درخواست کی مگر اس جملے میں تھوڑی سی تبدیلی کرتے ہوئے کہا ، دعوتوں میں نہیں اب صرف دعاؤں میں یاد رکھئیے ۔۔

Home

Copyright © 2010, Shugoofa.com®, All Rights Reserved.