شجاع الدین غوری
ایک گھریلو مکالم

اخبار پر نظریں جمائے پاس ہی بیٹھی سبزی کاٹتی ہوئی بیگم سے ہم نے کہا : ۔

' سنتی ہو ! '

' جی ہاں ! سُن رہی ہوں ۔ سُنایئے کیا سنانا چاہتے ہیں ۔' انہوں نے پرُ اشتیاق لہجے میں پوچھا ۔

' یہ ہمارے معین قریشی صاحب خود کیا کم اخبارات میں چھپتے ہیں کہ اب ان کے پایوں کی خبر بھی اخبارات کی زینت بنی ہے ۔ سُنا ہے ( چکھا نہیں ) ان کے ہاں پکنے والے پائے اتنے لذیذ ہوتے ہیں کہ مہمانانِ گرامی اس دعوت کا بڑی بے چینی اور بے صبری سے انتظار کرتے ہیں ۔ ۔'

بیگم نے پوچھا
' پائے چھوٹے کے ہوتے ہیں یا بڑے کے ۔۔۔ ؟ '

اخباری اطلاع میں یہ وضاحت نہیں ہے ۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ پائے بڑے کے ہی ہوتے ہوں گے ۔ کیوں کہ اس کے کھانے والے'  بڑے پائے ' کے لوگ ہوتے ہیں ۔ ' ہم نے بیگم کی جانب دیکھتے ہوئے کہا ۔

' اس میں حیران ہونے والی کیا بات ہے ۔ ' بیگم نے دھنیا کی گڈی کھولتے ہوئے کہا ۔' قریشی ہونے کے ناطے شہر کراچی کے قصاب اپنی برادری کا جھنڈا اونچا رکھنے کے لیے ، موٹے تازے ، نرم ملائم اور رسیلے پائے ان کی خدمت میں پیش کرتے ہوں گے ! '۔

ممکن ہے آپ کا خیال درست ہو مگر سُنا ہے ۔ جیسے جیسے دعوت کے دن قریب آتے جاتے ہیں شہر کراچی اور اطراف و اکناف کی گائیں ، بھینسیں ، بھیڑ بکریاں اپنے اپنے پیر چھپائے پھرتی ہیں کہ مبادا معین قریشی کی نظر نہ پڑجائے ۔ '

وہ ہماری بات سن کر کہنے لگیں ۔
 ' ایک تو وہ قریشی دوسرے شیخ اور تیسرے یہ بات میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ ان کا تعلق دہلی سے ہوگا ! '

' آپ نے یہ کیسے جانا کہ وہ دہلوی ہیں ! ' ہم نے حیران ہوکر پوچھا ۔

کہنے لگیں ۔ ' میں نے اپنی طالبِ علمی کے زمانے میں شاہد  احمد دہلوی ، اشرف صبوحی اور ملاّ رموزی  کی کتابوں میں جو پڑھا ہے اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ دہلی والے بڑے چٹورے ہوتے ہیں ۔ نہاری ، پائے ، حلیم ، قورمہ اور کباب تو دہلی والوں کے علاوہ کوئی اور اتنے عمدہ اور لذیذ بنا ہی نہیں سکتا ۔ ' بیگم نے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا ۔

' پکوان میں بیگم کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ہم نے کہا ۔ 'آپ بھی کوئی ایسا کارنامہ انجام دیجئے کہ ہمارا نام بھی آپ کے کسی پکوان کے واسطے سے اخبارات کی زینت بنے ۔ '

ہماری اس خواہش کو کمالِ ہوشیاری سے نظر انداز کرتے ہوئے انہوں نے پوچھا ۔
' آپ کے یہ معین قریشی صاحب ، دیکھنے میں کیسے ہیں ۔ ؟ '

' آپ یہ کیوں پوچھ رہی ہیں ۔۔۔ ؟ ' ہم نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔

' وہ اس لیے کہ ، ہم نے اِس قسم کے کھانے ، کھانے والوں کو اکثر ' کولسٹرول ' سے بھرپور ' گوپ ' یا '' ڈنلپ ' بنتے دیکھا ہے ۔ ' ان کے لہجے اور دونوں بازوؤں کی حرکت میں موٹاپا تھا ۔

' ارے نہیں بھئی ! ' ہم نے ہنستے ہوئے کہا ۔ ' وہ نہ اتنے موٹے ہیں کہ دیکھنے والوں کو مجید لاہوری کا شُبہ ہو ، اور نہ ہی اتنے دبلے کہ آپ انہیں جھاڑو سے بچھڑا ہوا تنکا کہیں ۔ وہ نہ اتنے طویل القامت ہیں کہ کوٹھے سے لگا کر سیڑھی کا کام لیاجائے اور نہ ہی اتنے پست قد کہ ' لی لی پُٹ ' یا W.W.E کے ریسلر ' ہارن سواگو ' کہا جائے ۔ قد تقریباً 5.6 ۔'

رنگت نہ اتنی سرخ و سفید کہ دیکھنے والا یا والی کشمیری سیب کے دھوکے میں آپ کے گال کاٹ لے اور نہ ہی اتنے سیاہ کہ لوگ عقیدتاً آپ کو بوسہ دینے لگیں ۔ خواتین کا پسندیدہ کُھلتا ہوا گندمی رنگ ۔

شائستہ اندازِ گفتگو ، لہجہ نرم ، مگر تیز ۔ عامیانہ گفتگو سے پاک ۔ اپنی بات سُنانے سے زیادہ دوسرے کی بات کو توجہ اور دلچسپی سے سُنتے ہیں ۔ دورانِ گفتگو کسی لفظ کا تلفظ غلط ہونے کا شبہ ہوجائے تو فوراً لغت منگواکر اپنی غلط فہمی اور دوسرے کا تلفظ درست کریں گے ۔

غیر مشتبہ شریفانہ چال چلن کے مالک ہیں ۔ ہم نے مختلف ذرائع سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ ان کی زندگی میں کوئی 'فتنۂ آخر الزماں ' بھی ہے ۔ ؟ تو معلوم یہ ہوا کہ ' فتنۂ آخرالزماں ' بھی وہی ہے جو ' فتنۂ اول الزماں ' تھیں یعنی بیگم معین قریشی ۔

آپ کے شریفانہ چال چلن کا اندازہ آپ کے ایک سفر نامے سے بھی ہوتا ہے ۔ جو ایک مدت سے ' ماہنامہ اردو ڈائجسٹ ، لاہور ' اور ماہنامہ ' شگوفہ ۔ حیدرآباد ۔ دکن 'میں مسلسل شائع ہورہا ہے ۔ یہ بڑا ہی عجیب سفر نامہ ہے ۔ اس سفرنامے میں مسافر تو ہے مگر ، ' مسافر نواز ' ایئر ہوسٹس ، دل نواز لیڈی گائیڈز ہیں نہ مسافر پر فریفتہ ہونے والی نیم عریاں حسیناؤں کا جمگٹھا اور نہ ہی ساحل سمندر کے دل فریب نظارے جو سفر ناموں کی زیب و زینت بڑھانے سے زیادہ ہم جیسے ضعیف و ناتواں قارئین کے لیے ' جن سنگ ' کا کام کرتے ہیں ۔

اس ملک میں کہ جہاں معمولی گریڈ کا افسر بڑی بڑی گاڑیوں میں سفر کرتا ہے ۔ بنگلے اور کوٹھی میں رہتا ہے ۔ یہ 19گریڈ کا افسر ایک سرکاری محکمے کے سربراہ کی حیثیت سے ریٹائر ہوا تو اس شان سے کہ اس کی اپنی ذاتی ملکیت میں پھونس کی ایک جھونپڑی بھی نہ تھی ۔ وہ آج بھی اپنے بیٹے کے گھر میں رہتے ہیں ۔

اپنے ماضی کو کبھی نہیں بھولتے ۔ بڑے فخر کے ساتھ ' لارنس روڈ ' موجودہ ' نشتر روڈ ' پر قائم اسرائیلی مسجد ( یہودی عبادت خانہ ) کے پاس رنچھوڑ لائن گورنمنٹ سیکنڈری اسکول اور دہلی کالونی والے اپنے 55 گز کے مکان کا ذکر کرتے ہیں ' ۔

اس سے پہلے کہ ہم مزید تفصیل میں جاتے بیگم صاحبہ نے ہاتھ اُٹھاکر روکتے ہوئے کہا ۔
 
' بس ۔ بس ۔ ہم نے تو صرف یہ پوچھا تھا کہ ۔ وہ دیکھنے میں کیسے ہیں ۔۔۔ ؟ آپ نے ان کی ذات و صفات اور مکارم اخلاق بیان کرنے شروع کردیئے ۔ مگر اس ساری گفتگو میں نہ ان کی بیوی کا کوئی ذکر آیا اور نہ ہی بچوں کا ۔ ' بیگم نے تجسس بھرے لہجے میں کہا ۔

' ہر شریف آدمی کی طرح ان کی بھی ایک بیوی ہے ۔ گھر کی سجاوٹ ، کھانوں کی تراوٹ اور مہمانوں کی تواضع دیکھ کر یہی اندازہ ہوتا ہے کہ خاتون قدیم ' دہلی والیوں ' کی منہ بولتی تصویر ہوں گی ۔ بچوں میں چار بیٹے اور ایک بیٹی یعنی پانچ بچے ہیں ۔

' موصوف کرتے کیا ہیں ۔۔۔ ؟ ' بیگم نے چھلے ہوئے آلو ایک جانب رکھتے ہوئے پوچھا ۔

' ارے بھئی ! ابھی تو بتایا کہ وہ ریٹائرڈ ہیں اور ۔۔۔ '

' جب ہی تو ! ' بیگم نے ہماری بات کو کاٹتے ہوئے مسکراکر کہا

' پوری بات سُنے بغیر جگت بازی نہ کیا کرو ۔ یہ بچے ریٹائرمینٹ سے پہلے کے ہیں ۔ '

' یعنی وہ ہر دو معنی میں ریٹائرڈ ہیں ۔ بالکل آپ کی طرح ، گھر کے نہ گھاٹ کے ۔' ہماری تنبیہ کے باوجود ان کی جگت بازی جاری رہی ۔
 
' جی نہیں ! ' ہم نے تُنک کر کہا ۔ گھر سے آپ کی جو مراد ہے اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ البتہ قریشی صاحب متعددبار یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ ریٹائر ہوئے ہیں ٹائرڈ نہیں ۔ جہاں تک گھاٹ کا تعلق ہے وہ بیک وقت کئی گھاٹ سے بندھے ہیں ملک کے معروف اردو ، انگریزی اخبارات میں کالم نگاری کرتے ہیں ۔ اردو اور انگریزی میں 17 کتابوں کے مصنف ہیں۔ جن میں سے 7 کتابیں طنز و مزاح پر اور ایک کتاب اردو زبان و ادب پر بھی ہے ۔ ان کی ان کتابوں میں سے لطیفے اور تضمین کئے ہوئے اشعار کو علیحدہ کیا جائے تو ، ' معین قریشی کے لطیفے ' اور ' معین قریشی کی پیروڈیاں ' کے عنوان سے مزید دو کتابوں کا بہ آسانی اضافہ ہوسکتا ہے ۔ آپ کی تحریر جتنی شگفتہ اور دلچسپ ہوتی ہے اس سے کہیں زیادہ پُر لطف انداز آپ کے پڑھنے کا ہے ۔ خود کم ہنستے ہیں لیکن دوسروں کو ہنسانے کے فن سے خوب واقف ہیں ۔ '

' ان کا تضمین کیا ہوا کوئی شعر یاد ہوتو سُنایئے ۔ ! ' بیگم نے ہمہ تن گوش ہوتے ہوئے کہا ۔ ' ایک شعر یاد آرہا ہے سُن لیجئے ۔

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے کسی میمن کا غزل خواں ہونا

حواس خستہ (کمر سیدھی کرتے ہوئے بیگم نے پوچھا )۔ ' کیا ان کے بچے بھی ان کی طرح اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ادبی ذوق کے مالک ہیں ۔

ہر تعلیم یافتہ والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد بھی ان کی طرح اعلیٰ تعلیم حاصل کرے اور میدانِ علم و عمل میں ان کا نام روشن کرے ۔ مگر ایسا بہت کم ہوتا ہے ۔ قریشی صاحب کے بیٹوں نے بھی گریجویشن کے بعد تعلیم کو خیرباد کہہ کر تجارت کو اپنایا۔ اللہ تعالیٰ نے ماں کے صبر و شکر اور باپ کی ایماندارانہ زندگی کا پھل بچوں کے کامیاب کاروبار کی صورت میں عطا کیا ۔ '

' آج آپ کی باتوں میں وقت اور سبزی دونوں اچھی طرح کٹ گئے ۔ کچھ اور بتایئے تویہ دو ڈلی پیاز بھی کاٹ لوں ۔ ' بیگم نے پیاز کے ورق اُتارتے ہوئے کہا ۔ باریکیوں میں گئے بغیر جتنا جانتے تھے بتاچکے ۔ ہاں ! ایک بات اور لیکن یہ ان کی عادت نہیں مجبوری ہے ۔

' وہ کیا ! بیگم نے دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا ۔

' جس طرح نواب زادہ نصر اللہ خان مرحوم ہمیشہ اپنے ساتھ ایک حُقّہ بردار رکھا کرتے تھے ۔ قریشی صاحب بھی اپنے ساتھ ایک تکیہ بردار رکھتے ہیں جو وقتِ ضرورت ان کی کمر کے نیچے تکیہ لگاتا ہے ۔۔۔ '

بیگم نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور ہنستے ہوئے کہا ۔ ' کمر کے نیچے تکیہ '

' اوہ ۔۔۔ ہو ۔۔۔ بھئی ! قریشی صاحب کمر کی تکلیف میں مبتلا ہیں ۔ زیادہ دیر بیٹھنا ان کے لیے ممکن نہیں ۔ اس لیے ان کی کمر کے پیچھے تکیہ رکھا جاتا ہے تاکہ وہ آرام سے بیٹھ سکیں '۔

پیاز کی تیزی سے ہماری آنکھوں میں پانی اُتر آیا تھا ۔ ہم نے ناگواری سے کہا ۔ ' آپ کی یہ پیاز تو ہمیں آنسو بہانے پر مجبور کررہی ہے ۔ اُٹھایئے اپنا سامان اور جایئے باورچی خانے میں ۔ '

بیگم نے کٹی ہوئی سبزی ، گوشت اور دیگر لوازمات اُٹھائے اور جاتے جاتے غور سے ہماری آنکھوں میں دیکھا اور یہ کہہ کر چلی گئیں ۔ ۔


'
CROCODILE TEARS '

Home

Copyright © 2010, Shugoofa.com®, All Rights Reserved.