rizontal_buttons/hbutton1N.png" name="Image3" width="142" height="30" border="0" id="Image3" />

افسر آرموری
پیری

ہمیں اُس پیری ،مریدی کی بات نئیں کررئیں،جن کے خیالاں میں ،حلو ے، مانڈے اور مالیدے کے کڑھئیاں ذہناں میں اُبھر کو آتئیں،ہور موواں سے رالاں ٹپکنا شروع ہوجاتئیں۔ اس کے ساتھ صندلاں،چراغاں،عرساں، ،قوّالیاں ہور ڈھولاں کے تھاپاں بھی یاد آجاتئیں۔ ہمیں بھلے ہمارے بچّے بھلے، پیراں ، مریداں کے ناؤں لیکو ، پیڑا کون مول لے۔پیراں پِچّھے پڑے تو پیڑیاں تلک،جان چھوڑانا مشکل۔یہ بات ہمیں دِلّی کی اس کہاوت پو یانچ ختم کررئیں، ' پیراں سوں مالیدے چوری۔' اب مرشداں جانے اُن کے مریداں،ہوردلّی والے۔ہمیں دکنی، مرشد کی گھر کی جھاڑو کو بھی عقیدت سے چوم لیتئیں۔دکنیاں میں ایسا بولنے والے کم ملیں گے :

اپنے دل سے اِرادت ہے میں کسی پیر ، کا مُرید نہیں ۔ پیر اں ، مرشداں کو کیا ہوا، ہر زمانے میں مزے سے رہیءں۔۔

بقول شاعر حمایت اللہ

مرشد تمیں تو بھوت بھی بھوتیچ مزے میں ہے
یاں چار جورواں ہیں واں حوراں نغے میں ہے

ہمیں جس پیری کا ذکر کرنے والے ہیں،اُس سے ہر ایک جنے کو بُڈّے ہو کو سابقہ پڑنے والا ہے۔بولے تو کلّے چپک کو ، اَنکھیاں ڈونگے جاکو،کمّر جُھک کو کمان ہو کو،ایک ہاتھ کمّر پو ہور ایک ہاتھ سے ڈنڈا پکڑ کو،دیدے زمین میں گاڑ کو یاس و حسرت سے جوانی کے دِناں یاد کر کو بڑ بڑاتے ہوئے سڑک ناپتئیں ۔ دیکھے تو گھور دِستائے۔یہ مشرقی بُڈّوں کا حال، سب کچھ ہوتے ہوئے ، کچھ بھی نیءں۔اپنا سب کچھ قربان کرکو،بچّوں کو پال پوس کو،بڑے کرکو،پڑھا لکھا کو،زمیناں جائیداداں بیچ کو باہر اعلیٰ تعلیم بول کو بھیجتئیں،اور اخیر میں کیا مِلتائے ،' ڈنڈا ' ۔کئی بُڈّے بڑے تو ،بچّے بُلاتئیں بول کو،نئیں تو بچّے آتئیں بول کو انتطار ی میں دِناں گنتے رہتئیں،اوپّر سے بُلاوا آیا تو مِلن کے ارماناں لیکو ،ہوائی جہازاں میں سوار ہونے کے بجائے،چار کندھوں پو سوار دُنیا سے لا وارثی ناد گذرجاتئیں۔ بعض وقتاں پو بیمار پڑے تو فوناں کر کر کو اخری دیدارمرنے والوں کا کرؤ ،بول کو بلائے تو آئے تلک بُڈّے ہسپتالاں میں،گنتی نئیں سو نلّیاں جسم میں سوراخاں کر کو گھُسڑے سو حالت میں،سکرات کے عالم میں،ہوش نا حواش ، ایر پورٹ سے پہنچے تلک ،لوگاں انتطاری کرتے سو کُھلے انکھیاں موچھ کو ڈھاٹا بننے کی تیاری کرتے رہتیں۔نذیر دھقانی کیا اچّھا نقشہ کھی چئیں :

اد کُھلے دیدے رہ گئے مرنے کے بعد بھی
یہ ثبوت ہے جان گئی انتظار میں

ایسے بڑے مجبوراں بھی دیکھنے کو ملتئیں،بس آخری سانساں ، مصنوعی تنفس کے آلہ سے پورے کرتئیں۔لگتائے لوہار کا بھتّا چل رائے ۔بجلی گئی،سانس بند۔

کیا سمجھا کیا راز ہے دنیا
سانسوں کی آواز ہے دُنیا
(نذیر دہقانی)

ہمیں تو ہسپیتالاں میں مرنے والوں کو خوش نصیب سمجھ تئیں،اور گھراں میں مرنے والے بُڈّے جن کے بچّے باہر ہیں اور انکا کوئی پرسانِ حال نئیں اس بُری حالتاں میں مرتئیں کہ بس،یہ شعر یاد آجاتائے۔

آ ئی بالیں پر جو مجھ بیمار کے
خوب روئی موت ڈھاڑیں مار کے
( امیر )

پیری ،بوڑھاپا خود ایک روگ،ہور اوپر سے نئیں سو بیماریاں زور کرتئیں۔اپنے جسم کے اعضا ئیچ ایک ایک کرکو ہاتھ دیتیءں ۔ دانتاں پتّے جھڑے ناد ،جھڑکو پوپلے ہو جاتئیں۔غصّّہ سے دانتاں پیسے تو چوکڑا ہاتھ کو آجاتائے۔بُڈّے ہوئے تو کھانے کا ہوکا اور ہوس زیادہ ہو جاتیئے،پن کی مجبوری دانتاں کی۔اِس پو بھی بعض بُڈّوں کی قوّت ، چُستی،پُھرتی اور کھینچ، دعوتاں میں دیکھے تو اَنکھیاں کو یقین نئیں آتائے۔ یہ غیبی طاقت کاں سے آتیے نئیں معلوم ۔ آج کل کمزور لُک لُک ہلتے سو دانتاں کو ، کھوٹیاں ناد جبڑوں کے ہڈّیاں میں گاڑ رئیں۔ ایک مریض کو جانتؤں،سو سال کے قریب، دانتاں کے ڈاکڑ کے پاس میخاں ٹھونکانے گئیں۔ڈاکٹر ایکس رے نکال کو بولیا،’’جبڑے کے ہڈّیاں نظر یچ نئیں آرئیں،گل کو گئیں،دانتاں کے کھوٹیاں کاں ٹھونکوں؟ایک حل ہے سوپسلیاں کے ہڈّیا ں کاٹ کوجبڑوں کی جگہ لگا کو اُس میں نوّے دانتاں گاڑ سکتے۔‘‘یہ سننا تھا بڑے میاں غصّہ سے بولیں،’’ ڈاکٹر صاب میرے ہڈّیاں گل گئیں پن کی مِنجے لگتائے تمارا بھیجہ سڑ کو گیا ،پہلے اس کو بدلو ۔‘‘ پوٹا پوٹی چاکلیٹاں کھا کو،ہور بُڈے بڑے پاناں،گُٹکے، بکری کے ناد چبا کو دانتا ں پاڑ کر لے رئیں۔ہور ڈاکٹراں کی چاندی ہورئی سو۔

پیری انکھیاں کی کمزوری، لازم و لزوم ناد۔نظراں کمزور،پہلے اخباراں کے حروفاں نئیں پڑے جاتے ۔ کمزوری بڑتے بڑتے اخبار لا کو ڈالتا سو ہاکر کی صورت نئیں پہچانے جاتئیے۔ جوانی میں انکھیاں لڑا لڑا کو، چہروں کو گھور گھور کو دیکھنے کی کوشش میں انکھیاں میں موتیا بینج آ جاتائے۔انکھیاں بھی پاڑ،دل بھی اُجاڑ۔

جاں آئی جوانی کی،باتاں سے چلی عقل تکیچ رہتیءں صورت ، کس کا بھی زنانہ ہو، انکھیاں کی روشنی گئی تو،پلکوں پو پنتیاں جلاتے ہوئے عمر گزارو۔

آنسوؤں کے دئیے جلا ناصر
دم نہیں چراغ میں گُل کے
(ناصر کاظمی)

بالاں تو آجکل بھری جوانی میں جھڑ کو جارئیں۔پہلے بالاں کو کونڈے،ریٹھے اور چکسے لگا کو نہاکو نکلے تو لگتا تھاکی کسی موہنی کے کاکُلاں ہیں ۔اب لگتائے کی محرم کے گُڑ کے شربت کی چکنی ہنڈی، نظراں کے سامنے پھر رئیے۔

اِنّیِ منّی کے تھے سر میں چار بالاں وہ بھی
ہتّڑاں قِسمت کے پڑ کو جَھڑ جَھڑا کو چل دئیے
(علی صائب میاں)

کمر کا دم خم بھی بُڈّتی میں جاتے رہتائے، پیٹ پیٹھ کو لگ کو قدمحراب کے ناد خم ہوجاتائے۔نماز میں قامت میں کھڑیں تو لگتائے رکوع میں ہیں،قاعدے میں بیٹھے تو لوگاں سمجھ تئیں سجدہ کر رئیں۔اب تلک دو پاؤاں پو تھے،اب ہاتھ میں کا ڈنڈاملا کو تین پاؤاں پو۔ چلتی پھرتی تپائی۔نذیر دہقانی کیا خوب بولیں، بُڈّے ہو کو جھُک گئے اب لیکو لکڑی ہات میں ، کاروائی جِندگی کی نقشے پا دیکھا کیئے ۔ پیری میں چول چول ڈھیلی،لُک لُک ہلتے ، کوئیں کوئیںآوازاں کرتے سو جوڑاں،تھر تھراتے پاؤاں،کمزور پجرتے سو والاں،چھلنی دِلاں پو نئیں سو پیا چاں۔

قد تو نئیں بڑتا پن کی ،اچّھی کھادگی ملی تو پھیل جاتئیں ۔ گُڑگے کے درداں،اُٹھتے امّاں اور بیٹھتے امّاں، سُبک رو گھوڑے کی چال جاکو ہوجاتئے، ڈنگر بیل کا حال ۔دو چار گام چلے کی ، سانس پھُل کوسینے میں سے سیٹیاں کے آوازاں۔بن ٹھن کو بزار کو خوشی خوشی جاتئیں جگ ہنسائی کرا لیکو لوٹ تئیں۔

میر کا حال نا پوچھو کچھ تم کہنہ رباط سے پیری میں
رقص کناں بازار تک آئے، عالم میں رسوائی ہوئی

اخیر پو ایک دو قدم بھی چلنا بھی مشکل ہو کو ہلنا بھی دوبھر ہوجاتائے۔

یہ ضعف اب ہے کہ ہلنا گراں ہے ۔ اعضا کا جھڑنا ، پھڑتوس ،فالتواور ناکارہ ہوجانا تو چھوڑو،اُن پو اپنا کنٹرول بھی باقی نئیں رہتائے۔کبھی رال ٹپک رئی تو، کبھی چول بہہ رئی۔انکھیاں پھڑک رئیں تو ہاتاں تھرک رئیں۔مُنڈی کا کتھاکلی کا تماشہ تو انگلیاں میں راشہ ۔ نئیں سو،رسولیاں اور گڈّے جسم سے پھوٹنا شروع ہوجاتئیں۔

مشرقی، مغربی پیری اور شیخاں کی پیری میں کوئی زمین آسماں کا فرق نئیں۔

حالتاں سب کے اُنیساں بیساں۔ مغربی بُڈّوں کو پیسے کی فراوانی اور آسودگی سے پیری میں چہروں پو پانی مارے سو ناد تازگی آجاتئیے۔رنگین کپڑے پین کو ،رنگاں لگا کو بالاں کالے کرکو ،بُڈّے گھوڑے کو لال لگام بولے ناد پھرتے رہتیں۔شیخاں کے شوقاں سب سے نرالے،ہر عمر میں جیالے۔مغرب کے نقلاں کرکو ،سب کو پِچّھے چھوڑ دیئے۔ انکے عیش وطرب،چنگ ورباب کے قصّے مثالی۔

ہیں غش میں شیخ دیکھ کے حُسنِ فرنگ ، بچ بھی گئے تو ہوش انھیں آئے گا دیر میں۔ شیخاں کے دِلاں صدا جوان،منہ میں کُشتہ اور اجوان،اس وجہ سے شادیاں کی حوس:

یہ سر کو کِتّے سہرے بنیں گے بڑے حضت
بچّوں کے غول کِتّے بڑیں گے بڑے حضت
(حمایت اللہ)

پیری میں سب سے بُرا حال ان کا ہوجاتائے،جن کے ذہناں ماؤف ہوجاتئیں۔بھول چوک تو سب سئیچ ہوتئیے،پنکی ضِدّی پن،ہٹ دھرمی اور ایک بات کو پکڑ کو بیٹھے تو اُس کیچ پِچّھے۔اخیر پو آدمیاں کی پہچان بھی نیءں۔ گذر گئے سووالوں کو یاد کرکو رورئیں،اور ہے سو والوں کو گذر گئے سمجھ رئیں۔کاں ہے سو نیءں معلوم،پُرانے گھراں کی یاد۔بستر پو پڑے ہوئے مِٹ مِٹ دیکھ رئیں۔کھائے سو یاد نا نئیں کھائے۔سو یاد۔بستر میچ فارغ:

نہ مرنے میں شامل نہ جینے میں شامل
کئی سالاں گذرئیں لٹکتے لٹکتے

مایوسی ، پیری میں ، بہت بُرے نئیں نئیں سو خیالاں ستاتے رہتئیں:

میں سو رہا تھا کسی یاد کے شبستاں میں
جگا کے چھوڑ گئے قافلے سحر کے مجھے
ناصرکاظمی

ڈپریشن ،مایوسی ،اسمیں خود کشی کرنے کا بھی سونچتئیں۔ ڈپریشن پو سرور ڈنڈا کیا خوب لکھئیں۔

زندگی پو میں زنگ ہو کو ہوں
قسمتوں سے تُڑنگ ہو کو ہوں
گھاٹ اب رہیا نا گھر کا میں
کٹ گئی سو ،پتنگ ہو کو ہوں

اب پیری میں کرنا کیاؤ؟گھُٹ گھُٹ کو مرنا،یا ٹباں بھر بھر کو رونا۔ ہونی کو کوئی نئیں ٹالتائے۔ ہر گھڑی گردش میں ہیں سات آسماں۔ہو رہیگا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا۔

زندگی کے آخری وقتاں تک بھر پور جیؤ،پن کی مخلوق کی خدمت ، اور خالق کی اطاعت کرکو۔ میانہ روی چال کامیابی کی ضمانت۔بھیڑ چال تکیہ میں فقیر کا حال۔اپنے اوقات کو اچّھے کاماں میں لگاؤ۔جذبہ خدمت ،اور پیار محبّت کو بھڑکاؤ۔ مرو تو کچھ کرکومرو۔ آئے،کھائے ،پیئے ہور چل دیے ناد نیءں۔

ہرے کِتّے بھی رہے پتّے مگر گر ناچ ہے اک دن
عمر کِتّی بھی لمبی رہئی تو کیا،سر ناچ ہے اک دن
اگر دنیا میں جینا ہے تو ،پھر ڈر مر کو جینا کیا
کم از کم نام تو زندہ رہے ، مرناچ ہے اک دن
(علی صائب میاں )

پیرانہ سالی میں اب بھی بُڈے وہ جوانمردی کے کاماں کررئیں ،کہ منہ میں انَگلیاں پکڑ کو رہ جانا۔ہمیں ان سیاسی لت خوراں،کھوسٹاں کی بات نئیں کررؤں جو کُرسیاں پو مرنا چاہ رئیں۔نیلسن منڈیلا کو دیکھ کو یہ بُڈّے کچھ بھی حاسل نئیں کررئیں۔ منڈیلاجنوبی آفریقہ کے بابائے قوم ،مرے تک صدر رہ سکتے تھے،کرسی چھوڑ کو بھی قوم کی خدمت کررئیں،اور دنیا میں وقعت بھی ہے۔ہمارے ہر دلعزیز سابق صدر ابولکلام کو دیکھو ،اب تلک بھی سب کے لیے شوق ،لگن اور ہمّت کا نمونہ۔۔


شوق جس کے آب و گِل میں اور ہمّت دل میں ہے
جب قدم اس کا اٹھے،سمجھو کہ وہ منزل میں ہے
(ناطق لکھنوی)

Home

Copyright © 2010, Shugoofa.com®, All Rights Reserved.