ساقی نارنگ (دہلی)
کنور صاحب کے لطائف

بذلہ سنجی ، لطیفہ گوئی اور حاضر جوابی میں کنور صاحب کا جواب نہیں ۔ کوئی شخص چاہے ان پر کیسی بھی چوٹ کرے انہیں کبھی غصہ نہیں آتا تھا ۔ ایسا ہی ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیں :

ایک دفعہ ایک پٹھان کسی کام سے کنور صاحب کے پاس آیا۔ گفتگو کے دوران وہ بے تکلف ہوگیا اور اسے مذاق سوجھا ، کہنے لگا بیدی صاحب کیا یہ بات صحیح ہے کہ دن کے بارہ بجے سرداروں کو کچھ ہوجاتا ہے ۔ کنور صاحب نے جواب دیا یہ تو لوگوں نے یونہی مذاق بنا رکھا ہے ورنہ اس کا حقیقت سے کیا تعلق ؟ لیکن وہ صاحب اصرار کیے جارہے تھے کہ سب سردار بارہ بجے بہک جاتے ہیں ۔ کنور صاحب نے بحث ختم کرنے کے لیے کہا ، فرض کیجیے آپ درست فرما رہے ہیں تو کیا ہوا ۔ اس پر وہ پٹھان دوبارہ پوچھنے لگا کہ یہ دن کے بارہ بجے ہی ہوتا ہے یا رات کے بارہ بجے بھی ہوتا ہے ؟ بیدی صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا رات کو کچھ ہونے کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے ۔ اس پر پٹھان کہنے لگاکہ ہماری گلی میں ایک سردار رہتا ہے وہ رات کو بھی بہکتا ہے ۔ اب بیدی صاحب کا پیمانۂ صبر لبریز ہوچکا تھا اور ساتھ ہی حس مزاح جاگ اٹھی فرمانے لگے ، وہ سالا ضرور پٹھان سے سکھ بنا ہوگا ۔ اس پر وہ صاحب اپنا سا منہ لے کر رہ گئے ۔ ۔

بیدی صاحب کا سفارش کرنے کا بھی اپنا ہی انداز تھا ۔ جن دنوں کشمیری لال ذاکر گوڑ گاؤں میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر تھے فریدآباد کے ایک گرلز اسکول میں ایک ڈرائنگ ماسٹر تھے اور اسی اسکول میں ان کی بیوی بھی پنجابی پڑھاتی تھی ۔ ان دونوں نے اسکول کی پرنسپل کو بہت تنگ کررکھا تھا ۔ انہیں بلا کر ذاکر صاحب نے بہت سمجھایا لیکن ان پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ پرنسپل کو تنگ کرتے رہے ۔ اس پر ذاکر صاحب نے ان میاں بیوی کو فاصلے پر الگ الگ اسکولوں میں ٹرانسفر کردیا ۔ اس ماسٹر نے کسی طریقہ سے بیدی صاحب تک رسائی حاصل کرلی ۔ اوران سے ذاکر صاحب کے نام سفارشی چٹھی لینے میں کامیاب ہوگیا اور وہ چٹھی لے کر ذاکر صاحب کے پاس پہنچ گیا ۔ لفافے پر ہاتھ سے لکھے ہوئے ایڈریس سے ہی ذاکر صاحب نے پہچان لیا کہ بیدی صاحب کا خط ہے ۔ لفافہ کھول کر پڑھا تو اس پر لکھا تھا ’’ یہ میاں بیوی اس وقت بڑی پریشانی میں ہیں ، آنے والے جاڑے کے پیش نظر انہیں اکٹھا کردیجیے اور ان کی دعائیں حاصل کیجیے ۔ ‘‘ خط پڑھ کر ذاکر صاحب مسکرائے تو ڈرائنگ ماسٹر نے بڑی جرأت کرکے پوچھا سر کیا لکھا ہے ۔ آپ کے فائدے کی بات ہے آپ جایئے ۔ ذاکر صاحب نے جواب دیا اور فائل نکال کر ان میاں بیوی کو فریدآباد سے قریب ایک اسکول میں ان کے ٹرانسفر کے آرڈر جاری کردیے ۔

ہر انسان کی زندگی میں ایسا موقع ضرور آتا ہے جب وہ کسی واقعہ سے محظوظ ہوتا ہے ۔ اس واقعہ کو پیش کرتے وقت وہ اپنی حس مزاح کا سہارا لیتا ہے ۔ سیدھی سادی بات بھی بعض اوقات لطیفے کی شکل اختیار کرلیتی ہے اور وہی واقعہ دوسرے وقتوں میں انسان کو محظوظ بھی کرتا ہے اور عبرت کا سامان بھی فراہم کرتا ہے ۔ کنور صاحب کی طویل زندگی میں ایسے بہت سے واقعے رونما ہوئے جو صرف لطیفے کی حیثیت نہیں رکھتے مگر لطیفوں کا مزہ دیتے ہیں ۔ ان کی زندگی کے ان واقعات کی اساس سچ کی بنیاد پر ہے جس نے لطیفے کی شکل اختیار کرلی ہے ۔ یہاں ان کے چند لطائف رقم کررہا ہوں تاکہ اس سے کنور صاحب کی شخصیت کا ایک اور پہلو نمایاں ہوسکے۔

ہندوستان کے سابق ہوم منسٹر کیلاش ناتھ کاٹجو کی صدارت میں مشاعرہ ہورہا تھا علامہ انور صابری جب اسٹیج پر آئے تو کلام پڑھنے سے پہلے فرمانے لگے :’’ وقت وقت کی بات ہے ، میں اب تک وہی کا وہی شاعر ہوں اور کاٹجو صاحب وزیر بن گئے ہیں ، حالانکہ انگریزوں کے دور حکومت میں ہم دونوں ایک ہی جیل میں رہ چکے ہیں ۔ کنور صاحب نے فوراً جملہ چست کیا ’’لیکن جرائم جدا جدا تھے ۔ ‘‘ *

ایک مشاعرے میں نریش کمار شاد نے جب حسب ذیل قطعہ پڑھا :

جو بھی عورت ہے ساز ہستی کا
بیش قیمت سا اک ترانہ ہے
ایک ہیرے کا خوب رو ہوکر
نیک خو ہوتو اک خزانہ ہے

بیدی صاحب نے فرمایا ۔۔۔ یہ وہ خزانہ ہے جو گھر والوں کو اکثر دیوالیہ بنادیا کرتا ہے ۔
*

دہلی میں ایک پیروڈی کا مشاعرہ تھا جب گلزار زتشی کا نام صدارت کے لیے پیش کیا گیا تو وہ انکسار سے بولے ۔۔۔ حضور میں صدارت کا اہل کہاں ہوں ، اس پر کنور مہندرسنگھ بیدی نے فرمایا : مطمئن رہیں آپ بھی صدر کی پیروڈی ہی ہیں ۔
*

جن دنوں جوش ملیح آبادی ماہ نامہ ’’ آجکل ‘‘ کے مدیر اعلیٰ تھے ان کے دفتر میں اکثر شاعروں ، ادیبوں اور مداحوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی ۔ ایک مرتبہ پنڈت ہری چند اختر ، عرش ملسیانی ، بسمل سعیدی ، جگن ناتھ آزاد ، بیدی صاحب اور مانی جائسی ، جوش صاحب کے پاس بیٹھے تھے ۔ ادھر ادھر کی باتیں ہورہی تھیں کہ پنڈت جی نے بیدی صاحب کو پنجابی زبان میں مخاطب کیا ۔ جوش صاحب نے فوراً ٹوک کر کہا کہ پنڈت جی یہ تو جہنم کی زبان ہے ۔ بیدی صاحب نے فوراً گزارش کی کہ جوش صاحب آپ بھی ابھی سے یہ زبان سیکھنا شروع کردیں تاکہ آپ کو آخری جائے قیام میں تکلیف نہ ہو ۔ ۔
*

علی گڑھ نمائش کے مشاعرہ میں جوش صاحب ، کنور مہندر سنگھ بیدی سحر ، ہری چند اختر اور کئی اور شعرا شریک ہوئے ۔ ایک خوبرو نوجوان شاعر جب کلام سنانے مائک پر آئے تو اس وقت جوش صاحب مائک کے عین پاس بیٹھے تھے ۔ اس نوجوان نے از راہ ادب جوش صاحب سے کہا کہ قبلہ معافی چاہتا ہوں ، میری پشت آپ کی جانب ہے ۔ جوش صاحب تو خاموش رہے مگر سامعین میں سے ایک زوردار آواز آئی کہ برخوردار غم نہ کرو جوش صاحب عین صحیح مقام پر تشریف فرما ہیں ۔ ۔
*

ایم آر شیروانی ممبر پارلیمنٹ ہندوستان کے مشہور صنعت کاروں میں سے تھے ۔ گرمی کا موسم نینی تال میں گزارتے تھے جہاں ان کی عالی شان کوٹھی تھی ۔ ہر ہفتہ عشرہ کے بعد پرتکلف لنچ یا ڈنر کرتے تھے ، جہاں شعر و شاعری اور موسیقی کا بھی دور چلتا تھا۔ ایک بار جب شاعری کا دور ختم ہوچکا تو موسیقی شروع ہوئی ۔ ایک صاحبزادے سے گانا سنانے کی فرمائش کی گئی ، ان کی عمر پندرہ سولہ برس ہوگی ۔ انہوں نے ترنم سے ایک عریاں سا شعر سنایا ۔ بیدی صاحب فوراً بولے کہ ان کے والدین کو خبر کردی جائے صاحبزادے بالغ ہوچکے ہیں ۔
*

نگینہ ضلع بجنور میں ایک مشاعرہ حافظ محمد ابراہیم مرکزی وزیر کی صدارت میں ہورہا تھا ۔ جنرل شاہنواز مہمان خصوصی تھے اور کنور مہندر سنگھ بیدی مشاعرے کی نظامت فرما رہے تھے ۔ علامہ انور صابری کو جب دعوت کلام دی گئی تو ان کے تعارف میں بیدی صاحب نے کہا ، حضرت انور صابری جنگ آزادی کے مجاہد شاعر ہیں ۔ آپ اللہ کے فضل و کرم سے بڑے پاکباز ، راست باز ہیں ، ابھی بیدی صاحب کہہ ہی رہے تھے کہ سامعین میں سے ایک لڑکے نے بہ آواز بلند کہا پاکباز ، راست باز ہی نہیں بلکہ لونڈے باز بھی ہیں ۔ اس پر بیدی صاحب نے اس کو ڈانٹتے ہوئے کہا اتنی بے ہودہ بات کہتے ہوئے تمہیں شرم آنی چاہیے تو علامہ صابری خود ہی فرمانے لگے بیدی صاحب اسے نہ ڈانٹیے صاحبزادے جو کچھ بھی فرما رہے ہیں اپنے ذاتی تجربہ کی بنا پر فرمارہے ہیں ۔ اس پر قہقہہ بلند ہوا کہ صاحبزادے کو مشاعرہ سے بھاگتے ہی بنی ۔
*

موتی جھیل کانپور کے مشاعرے بہت شاندار ہوتے تھے ۔ جتنی تعداد سامعین کی ان مشاعروں میں ہوتی کہیں اور دیکھی نہیں جاتی ۔ بیدی صاحب ایک مشاعرے کی نظامت فرما رہے تھے ۔ ٹی وی والے مشاعرہ کو ٹیلی وائز کررہے تھے ۔ بیدی صاحب نے راز الٰہ آبادی کو دعوت کلام دی ۔ وہ مائک پر تشریف لائے چونکہ راز الٰہ آبادی کا رنگ صاف نہیں اس لیے گھنی داڑھی سونے پر سہاگے کا کام کرتی ہے ۔ اس وقت ٹی وی والے ان کی بائیں جانب کھڑے تھے ۔ جونہی راز صاحب نے مطلع فرمایا ، ٹی وی والوں نے ان کے رخ پر روشنی ڈالی اور ٹیلی وائز کرنا شروع کردیا۔ بائیں جانب کے سامعین نے داد دی ، جو محض ایک اتفاق تھا ۔ لیکن راز صاحب فرمانے لگے کہ صرف بائیں جانب سے داد ملی ہے ، بیدی صاحب نے گزارش کی حضور ٹی وی والوں کی روشنی بھی تو آپ کے بائیں ہی کلہ مبارک پر پڑی تھی ۔
*

کسی مشاعرہ میں کوثر قریشی اپنی غزل کا یہ شعر پڑھ رہے تھے ؂

شرکتِ انجمنِ ناز ضروری ہے مگر
ہم پس سایۂ دیوار بہت اچھے ہیں

کنور مہندر سنگھ بیدی نے یہ شعر سنا تو کہا بہت اچھی بات ہے ، کوثر صاحب ! لیکن خیال رکھیے گاکہ وہ دیوار کہیں نئی دہلی کے ٹھیکیداروں کی بنائی ہوئی نہ ہو ، کیونکہ ایسی دیواریں بالعموم چار چھ مہینے کے بعد ہی گرجاتی ہیں ۔
*

ایک درویش مولانا وضع کے شاعر کسی شاعر سے کہہ رہے تھے ۔ جوش ایسے ملحد ، بے دین اور بے اصول آدمی کا ہندوستان سے پاکستان چلے جانا ہی بہتر تھا ۔ خس کم جہاں پاک ، کسی دوسرے شاعر نے مولانا کو ٹوکتے ہوئے کہا : جوش صاحب کے مستقل طور پر پاکستان چلے جانے سے تو یہاں خس کی کمی واقع ہوگئی ، لیکن مولانا اگر آپ پاکستان ہجرت فرما جائیں تو ہندوستان میں کیا چیز کم ہوجائے گی ؟ ’’ خاشاک ‘‘ کنور مہندر سنگھ بیدی نے دونوں کی گفتگو سن کر نہایت برجستگی سے کہا ۔
*

1975 ء کے آل انڈیا مشاعرے میں ایک نوجوان شاعرہ نے اپنے حسن اور ترنم کے طفیل شرکت کا موقع حاصل کرلیا تھا ۔ جب موصوفہ نے غزل پڑھی تو سارے سامعین جھوم اٹھے ۔ غزل بھی اچھی تھی ، لیکن نادانستگی میں اس شاعرہ سے زیر زبر اور پیش کی کئی غلطیاں سرزد ہوئیں تو کنور مہندر سنگھ بیدی سحر تاڑ گئے کہ غزل کسی اور نے لکھ کر دی ہے ۔ غزل سنانے کے بعد جب موصوفہ اپنی نشست پر واپس آکر جلوہ گر ہوئیں تو ایک مداح شاعر نے ان سے کہا :’’ محترمہ آپ کے کلام نے واقعی مشاعرہ لوٹ لیا ۔ ‘‘ اس پر بیدی صاحب خاموش نہ رہ سکے ، برجستہ تصحیح فرمائی : یوں کہیے برخوردار کہ محترمہ نے مشاعرہ لوٹ لیا ۔ بیچاری غزل پر تو الزام نہ لگایئے ۔ ۔
*

گوپی چند امن کے فرزند کی شادی تھی ۔ انہوں نے دہلی کے دوست شعرا کو بھی مدعو کیا ۔ ان میں کنور سنگھ بیدی بھی شریک تھے ہر شاعر نے سہرا یا دعائیہ قطعہ یا رباعی سنائی ۔ امن صاحب نے بیدی صاحب سے درخواست کی کہ آپ بھی کچھ ارشاد فرمایئے تو بیدی صاحب نے یہ شعر فی البدیہہ کردیا ؂

جناب امن کے لخت جگر کی شادی ہے
مگر غریب کو کس جرم کی سزا دی ہے
*

دہلی کے ایک مشاعرہ میں کنور مہندر سنگھ بیدی نے شعرا کو ڈائس پر بلایا تو ترتیب ایسی رکھی کہ شاعرات ان کے قریب رہیں ۔ مشاعرے کے بعد خلیق انجم بیدی صاحب سے کہنے لگے کہ آپ جب کسی شاعرہ کو داد دیتے ہیں تو آپ کا ہاتھ لہرانے کی بجائے اس کی پیٹھ پر زیادہ دیر تک سرکتا رہتا ہے ۔ بیدی صاحب نے فوراً جواب دیا : داد دینے کا یہی انداز تو داد طلب ہے ۔
*

دہلی کے ایک نظم گو شاعر زلف کی تعریف میں ایک اچھی خاصی غزل سنا رہے تھے ۔ جب نظم سے لوگ اکتا گئے تو کنور مہندر سنگھ بیدی جو مشاعرے کی نظامت کررہے تھے نے کہا : قبلہ یہ زلف بھی کیا زلف ہے کہ اس کی تعریف میں آپ اتنی لمبی نظم سنا رہے ہیں ۔ تو فوراً بولے : کنور صاحب میں اپنے محبوب کی زلف کی تعریف کررہا ہوں ۔ آپ کی زلف کی نہیں ۔
*

        کنور مہندر سنگھ بیدی سحر جن دنوں دہلی میں مجسٹریٹ تھے تو پولیس والے ایک شاعر کو چوری کے الزام میں گرفتار کرکے لائے اور بیدی صاحب کے سامنے پیش کیا ۔ کنور صاحب چونکہ شاعر کو جانتے تھے ۔ انہوں نے مسکرا کر کہا ارے بھائی اسے کیوں پکڑ لائے یہ چور نہیں البتہ شعر چور ضرور ہے اور اسے رہا کردیا ۔ ۔*

Home

Copyright © 2010, Shugoofa.com®, All Rights Reserved.